Al-Risala · April 2016 · page 41

اسلام کی تاریخ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۴۱

یہ طبقہ جو اپنے آپ کو اسلام پسند (Islamist) کہتا ہے، اس نے جب دیکھا کہ ان کو مسلم ملکوں میں کامیابی حاصل نہیں ہورہی ہے تو انھوں نے خود اپنے آپ پر نظر ثانی نہیں کی بلکہ انھوں نے اس کا الزام مغربی قوموں پر ڈال دیا۔ انھوں نے کہا کہ مغربی قوموں نے سازش کر کے مسلم حکمرا نوں کو اپنے موافق بنا لیا ہے۔ اب ان کی سیاسی مہم کا نشانہ بیک وقت دو ہو گیا۔ ایک طرف مسلم حکمراں، اور دوسری طرف مغرب کی قومیں۔ انھوں انھوں نے دونوں کے خلاف نفرت اور تشدد کی سرگرمیاں جاری کر دیں۔ مگر آخر کار ان اسلام پسندوں کو نظر آیا کہ ساری کوششوں کے باوجود وہ اپنے سیاسی مقصد میں کامیاب نہیں ہورہے ہیں۔ اب ان کے اندر ایک خطرناک رجحان ابھرا، اور وہ خود کش بمباری (suicide bombing) کا رجحان تھا۔ انھوں نے غلط پروپیگنڈے کے ذریعے وقت کے مسلمانوں کو آخری حد تک انتہا پسندی میں مبتلا کر دیا۔ چناں چہ ان کو مسلمانوں میں ایسے افراد کثرت سے ملنے لگے جو اپنے مفروضہ دشمن کے خلاف خود کش بمباری کے لئے تیار تھے۔ اکیسویں صدی میں یہ رجحان پوری شدت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ یہ رجحان یقینی طور پر کوئی صحت مند رجحان نہیں۔ اس کا مطلب عملًا یہ ہے۔ اگر تم دشمن کو ہلاک نہیں کر سکتے تو ایسا کرو کہ خود اپنے آپ کو ہلاک کر کے کم از کم دشمن کے استحکام کو ڈی اسٹیبلائز (destabilize) کرو۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں کوئی نیا آغاز لانا صرف اس طرح ممکن ہے کہ ان کے کیس کو گہرائی کے ساتھ سمجھا جائے، اور اجتہادی انداز میں اس معاملے کی نئی منصوبہ بندی کی جائے۔ کسی جذباتی اقدام یا رد عمل کے تحت کوئی کارروائی اس معاملے کا حل نہیں بن سکتی۔ یہ احیائے امت کا معاملہ ہے، اور احیائے امت کا معاملہ ہمیشہ اجتہاد پر مبنی ہوتا ہے۔

راقم الحروف کے نزدیک اس معاملے کا آغاز یہ ہے کہ وہ تمام کتابیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سیاسی پیٹرن پر لکھی گئیں، ان سب کو کلاسیکل لٹریچر (classical literature) کا درجہ دیا جائے۔ یعنی ان کی اہمیت صرف اس اعتبار سے ہو کہ وہ امت مسلمہ کی ماضی کی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں، لیکن جہاں تک موجودہ زمانے میں ملت کے احیاء اور اس کے مستقبل کی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues

Printed page