Al-Risala · April 2016 · page 42

اسلام کی تاریخ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۴۲

تعمیر کا سوال ہے، اب بلاشبہ ہم کو نئے لٹریچر کی ضرورت ہے۔ ایسا لٹریچر جس میں قرآن وسنت کی روشنی میں نئے حالات کو سمجھا جائے، اور اجتہادی انداز میں عمل کا نقشہ بنایا جائے ۔ بعد کے زمانے میں جو ڈیولپمنٹ ہوا، اس کے نتیجے میں امت کے اندر انسان رخی ذہن کے بجائے مسلم رخی ذہن (Muslim-oriented mind) بن گیا۔ مسلمان عام طور پر ہم اور وہ (we and they) کے انداز میں سوچنے لگے۔ مگر یہ ذہن مکمل طور پر ایک غیر دعوتی ذہن ہے۔ صحیح ذہن وہ ہے جو ہم اور ہم (we and we) کے تصور پر مبنی ہو۔ اس لحاظ سے موجودہ زمانے میں جو اسلامی لٹریچر تیار ہو اس کو تمام تر انسان رخی سوچ (man-oriented thinking) پر مبنی ہونا چاہئے ۔ دعوت الی اللہ کے لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں کے اندر دوسرے انسانوں کے لئے نصح ( خیر خواہی) کا ذہن موجود ہو۔ مسلمانوں کا موجودہ لٹریچر اس اسپرٹ سے خالی ہے۔ آج جس نئے لٹریچر کی ضرورت ہے، اس کو اس کمی سے مکمل طور پر پاک ہونا چاہئے، ورنہ وہ عملاً مطلوب مقصد کے لئے مؤثر نہ ہوگا۔ عہدِ شباب ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ البخاری کے مطابق، اس کا ابتدائی جزء یہ ہے: يأتي في آخر الزمان قوم، حدثاء الأسنان، سفهاء الأحلام، يقولون من خير قول البرية، يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية (صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3611)۔ اس حدیث میں ایک ظاہرے کی طرف اشارہ ہے، جس کی ایک انتہائی صورت کو اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ مگر اس سے قطع نظر اس حدیث سے فطرت کا ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ کوئی آدمی جب اپنے عہد شباب (youth age) میں ہوتا ہے تو اس وقت وہ اپنی عقل و فہم کے اعتبار سے غیر پختہ (immature) ہوتا ہے۔ اس لیے کسی آدمی کی اس رائے کو زیادہ قابل اعتبار سمجھنا چاہیے جس کو اس نے پختگی کی عمر کو پہنچنے کے بعد ظاہر کی ہو۔ قرآن سے بھی فطرت کا یہ اصول معلوم ہوتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ جب جوانی کی عمر میں تھے۔ اس وقت انھوں نے مصر کے ایک قبطی کو گھونساماردیا، اس کے بعد وہ مرگیا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues

Printed page