Al-Risala · April 2016 · page 43

اسلام کی تاریخ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۴۳

(القصص: 15) لیکن حضرت موسیٰ کو عہد شباب میں نبوت نہیں دی گئی۔ بلکہ اس وقت دی گئی جب کہ وہ پختگی کی عمر (age of maturity) تک پہنچ چکے تھے۔ کیوں کہ بحیثیت پیغمبر ان کو قول لئن (طه: 44) کی زبان میں کلام کرنا تھا۔

مذکورہ حدیث میں مسلم تاریخ کے ایک اہم پہلو کی توجیہہ ملتی ہے۔ مسلم تاریخ اپنے بعد کے زمانے میں نظریاتی انتہا پسندی (ideological extremism) کی طرف چلنے لگی۔ اس کو حدیث میں انتباہ کی زبان میں غلو (ابن ماجه، حدیث نمبر 3029) کہا گیا ہے۔ حدیث کے مطالعے سے مذکورہ تاریخی ظاہر ہ کی نفسیاتی توجیہہ معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ بعد کے زمانے میں جن حضرات کو مسلمانوں کے اندر مفکر (thinker) کا درجہ ملا، ان کا فکر ان کے عہد شباب میں بنا تھا، جب کہ وہ ابھی پختگی کی عمر کو نہیں پہنچے تھے۔ مثلاً ابن تیمیہ، عبدالوہاب نجدی، ابوالاعلیٰ مودودی، وغیرہ۔ بعد کی تاریخ میں جن لوگوں کو مسلمانوں کے اندر مفکر کا درجہ ملا، وہ وہی تھے جن کا فکر عہد شباب میں بنا۔ عہد شباب میں انسان کے اندر جوش کا جذبہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر اس کے افکار میں اکثر انتہا پسندی کا انداز پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اعتدال کی زبان بولنے کے بجائے، انتہا پسندی کی زبان بولنے لگتا ہے۔ بعد کو اس کا یہ فکر مقدس بن کر لوگوں میں اتنا پھیل جاتا ہے کہ لوگ اس کو نظر ثانی کے بغیر درست فکر سمجھ لیتے ہیں۔ یہی واقعہ بعد کے زمانے کے مسلم مفکرین کے ساتھ پیش آیا۔ مثلاً ابن تیمیہ کے زمانے میں ایک عیسائی نے پیغمبر اسلام کے بارے کوئی بات کہی۔ اس کو اس وقت کے مسلمانوں نے شتم رسول کا کیس قرار دیا۔ یہ واقعہ ملک شام میں اس وقت پیش آیا جب کہ ابن تیمیہ اپنی جوانی کے عمر میں تھے۔ اس وقت انھوں نے عربی میں ایک ضخیم کتاب لکھی جس کا ٹائٹل تھا: الصارم المسلول علی شاتم الرسول۔ اس کتاب میں انھوں نے یہ مسئلہ بیان کیا کہ جو آدمی شتم رسول کا مرتکب ہو، اس کی سزا قتل ہے۔ ابن تیمیہ اس وقت اگر پختگی کے عمر میں ہوتے تو یقیناً ان کا رد عمل مختلف ہوتا۔ وہ مذکورہ عیسائی سے مل کر اس کو ہمدردانہ انداز میں سمجھاتے۔ وہ ایک ایسی کتاب لکھتے جس میں وہ بتاتے کہ شتم رسول جیسا غیر فطری معاملہ ہمیشہ غلط فہمی کی بنا پر ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues

Printed page