امن ایک اقدام
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۴۴
اس لیے ایسے آدمی کے اوپر تبلیغ کرنا چاہیے، اور پرامن دعوتی عمل کے ذریعے اس کی اصلاح کی کوشش کرنا چاہیے۔
سید ابوالاعلیٰ مودودی کے زمانے میں ایک واقعہ پیش آیا، اس کے بعد انھوں نے اپنی اردو کتاب الجہاد فی الاسلام لکھی۔ اس وقت وہ اپنی جوانی کی عمر میں تھے۔ چنانچہ انھوں نے جوش و خروش کے انداز میں ایک ایسی کتاب لکھی جس میں جہاد بمعنی قتال کی زبردست وکالت کی گئی تھی۔ حالاں کہ اگر وہ اس وقت پختگی کی عمر میں ہوتے تو شاید وہ ایک اور کتاب لکھتے جس کا عنوان یہ ہوتا، الدعوة الى اللہ۔ اس کتاب میں وہ پرامن دعوت کی اہمیت بتاتے اور مسلمانوں کو راغب کرتے کہ وہ پرامن دعوت کے اصول پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ یہی معاملہ دوسرے مسلم مفکرین کے ساتھ پیش آیا۔ اب اس کا حل یہ ہے کہ اسلام کو سمجھنے کے لیے براہ راست طور پر قرآن و سنت کا مطالعہ کیا جائے، نہ کہ بعد کے زمانے میں لکھی ہوئی کتابوں کا۔
امن ایک اقدام
اسلام میں جنگ، دفاع کا اشو (issue of defence) ہے۔ اور امن، اقدام کا اشو (issue of advancement) ہے۔ اسلام میں اہل ایمان کو اجازت نہیں کہ وہ اپنی طرف سے جنگ چھیڑیں۔ البتہ جہاں تک امن کا تعلق ہے، اہل ایمان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اسلام کی اشاعت کے لیے پرامن اقدام کا منصوبہ بنائیں۔ اسلام کا یہ اصول فطرت کے قانون پر مبنی ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، جنگ کے ذریعے کسی مثبت نتیجہ کا حصول ممکن نہیں۔ کیوں کہ جنگ سے کسی بات کا فیصلہ نہیں ہوتا، نہ ہارنے کی صورت میں اور نہ جیتنے کی صورت میں۔ جنگ میں اگر فتح حاصل ہو، تب بھی ہارنے والے فریق کے دل میں انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھتا ہے۔ اس لیے جنگ میں فتح بھی ایک نئی جنگ کا آغاز بن جاتی ہے۔
پرامن منصوبہ بندی ہمیشہ اپنا کام کرتی ہے، پرامن منصوبہ بندی کوئی نیا مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ وہ صرف مسئلہ کے حل کی طرف لے جاتی ہے۔ پرامن منصوبہ بندی کے تحت اقدام کرنا، ایک ایسے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues