امن ایک اقدام
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۶، صفحہ ۴۵
انجام کی طرف لے جاتا ہے جہاں جنگ کا خاتمہ ہو جائے اور لوگوں کو پر امن سرگرمیوں کے لیے مواقع (opportunities) حاصل ہو جائیں۔
اسلام کے دورِ اول کی تاریخ اس اصول کی تصدیق کرتی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اہل ایمان اور ان کے مخالفین کے درمیان کچھ لڑائیاں ہوئیں۔ مثلاً غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ حنین، وغیرہ۔ مگر ان لڑائیوں سے ٹکراؤ ختم نہیں ہوا۔ گویا باعتبارِ نتیجہ عمل کی کوئی حد نہیں آئی۔ قرآن میں فتح کی آیت صرف صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔ فتح کا مطلب ہے ٹکراؤ کا خاتمہ اور پر امن سرگرمیوں کے لیے موافق ماحول پیدا ہو جانا۔ کسی اور غزوہ کے بعد فتح کی آیت نہیں اتری۔ حدیبیہ کا واقعہ 6 ہجری میں پیش آیا۔ اس موقع پر فریق ثانی کی کوشش صرف یہ تھی کہ رسول اور اصحاب رسول مکہ میں داخل نہ ہوں اور عمرہ کیے بغیر واپس مدینہ چلے جائیں۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی طرف سے امن (peace) کی بات چیت (negotiation) شروع کی۔ اس معاملہ میں آپ اس آخری حد تک گیے کہ فریق ثانی کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر منظور کر لیا۔ صرف اس مقصد کے لیے کہ دونوں فریقوں کے درمیان صلح ہو جائے اور معتدل حالات قائم ہو جائیں۔ تاکہ کھلے طور پر اسلام کے دعوتی مشن کو جاری کیا جا سکے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس طرح فریق ثانی سے یک طرفہ شرطوں پر صلح کر لی تو اس کے بعد قرآن کی سورہ نمبر 48 نازل ہوئی۔ اس میں پیشگی طور پر یہ اعلان کر دیا گیا کہ یہ پر امن مصالحت باعتبار نتیجہ ایک فتح مبین (clear victory) ہے۔ قرآن کی یہ پیشگی خبر چند سالوں میں واقعہ بن گئی، پر امن اقدام باعتبار نتیجہ فتح ثابت ہوا۔
اسلام میں جنگ مجبوری کے تحت وقتی دفاع کے لیے ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، پر امن منصوبہ اس لیے ہوتا ہے کہ سماج کے اندر مستقل طور پر اعتدال کی حالت قائم ہو جائے۔ ہر فرد کے لیے تعمیری سرگرمیوں کے مواقع حاصل ہو جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2016 All issues