ذاتی عقل، علمی عقل
الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۱۸
پر ثابت ہو رہی ہے۔ یہی قرآن کے عقلی مطالعے کا واحد طریقہ ہے۔
قرآن کے بیان کا ایک حصہ وہ ہے جس میں زمین و آسمان یعنی فزیکل ورلڈ (physical world) کے بارے میں کچھ بیانات دیے گئے ہیں۔ یہ موضوع، قرآن اور سائنس کے درمیان مشترک ہے۔ قرآن پر عقلی غور وفکر کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ مشترک موضوعات میں قرآن نے جو حوالے دیے ہیں، وہ سائنس کے مسلمات سے مطابقت رکھتے ہیں یا اس سے ٹکرا رہے ہیں۔ راقم الحروف نے اس حیثیت سے تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔ میں نے اپنی دوسری کتابوں (مذہب اور جدید چیلنج، عقلیات اسلام، وغیرہ) میں مثالوں کے ذریعہ یہ واضح کیا ہے کہ ان مشترک موضوعات میں قرآن کے بیان اور سائنس کے بیان میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔
یہ واقعہ قرآن کی صداقت (veracity) کا ایک عقلی ثبوت ہے۔ مشترک موضوعات میں قرآن کے بیان کے درست ہونے سے ہم کو یہ قرینہ (probability) ملتا ہے کہ ہم یہ قیاس کر سکیں کہ غیر مشترک موضوعات میں بھی قرآن کے بیانات درست ہیں۔ اس طریق استدلال کو سائنس میں معقول (valid) قرار دیا گیا ہے اور اس کو استدلال بذریعہ احتمال (argument from probability) کہا جاتا ہے، یعنی معلوم دنیا کے بارے میں قرآن کے بیانات کے درست ثابت ہونے سے یہ قرینہ ملتا ہے کہ غیر معلوم دنیا کے بارے میں بھی قرآن کے بیانات احتمالی طور پر (probably) درست ہیں۔ اس اصول استدلال کے بارے میں مزید معلومات کے لیے حسب ذیل کتابیں ملاحظہ فرمائیں۔ Science and the Unseen World by Arthur Eddington Human Knowledge by Bertrand Russell علم کی دو قسمیں عقل کا استعمال کسی خلا میں نہیں ہوتا، بلکہ وہ موجودہ دنیا میں ہوتا ہے جس دنیا کے اندر ہم زندگی گزارتے ہیں، مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا کی تمام چیزیں ایک قسم کی نہیں ہیں، بلکہ یہاں تنوع (diversity) پایا جاتا ہے۔ چنانچہ فلاسفہ نے علم کی دو قسمیں کی ہیں — چیزوں کا