وزڈم میگزین
الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۴۲
جواب
(1) میری پہلی عبارت میں آپ ’’تمام معاملات‘‘ کے ساتھ ’’عملی‘‘ کا اضافہ کر دیں تو آپ کا شبہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ اعتدال کے بارے میں میں نے جو بات لکھی ہے، اس کو آپ نے غور سے نہیں پڑھا۔ آپ دوبارہ اس کو غور سے پڑھیے تو آپ کو اپنے سوال کا جواب مل جائے گا۔ میرا اصل نقطہ نظریہ ہے کہ اعتدال کا تعلق فکری امور سے نہیں ہے، بلکہ عملی معاملات سے ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ عملاً تمام علماء کے درمیان یہ مسئلہ متفق علیہ رہا۔ اگر چہ علماء اس مسئلے کو بتانے کے لیے دوسرے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
(2) میری تحریروں میں دعوت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب دوسرے فرائض کی نفی نہیں، بلکہ مطلوب صورت کی اہمیت کو بتانا ہے۔ ہماری کتابوں میں دوسرے پہلوؤں پر بھی لکھا گیا ہے۔ البتہ موقعہ کے لحاظ سے دعوت الی اللہ کے فریضہ پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ آپ ہماری تفسیر قرآن، تذکیر القرآن پڑھیں اس میں آپ کو ہماری ساری باتیں مل جائیں گی۔ (3) عزل کے بارے میں میرا مسلک وہی ہے جو صحیح البخاری کی روایت سے ثابت ہے۔ اس کو آپ پڑھ لیں۔ اس معاملہ میں الگ سے میری کوئی رائے نہیں ہے۔ البخاری کے ان الفاظ پر آپ غور کیجیے: عن جابر رضي الله عنه، قال: کنا نعزل والقرآن ينزل۔ (حدیث نمبر 2508) ان الفاظ پر غور کر کے آپ خود اپنے سوال کا جواب پا سکتے ہیں۔
سوال
مولانا آپ نے 1 نومبر 2015 کی سنڈے تقریر میں جو فرمایا اس میں سے چند باتوں پر مزید وضاحت مطلوب ہے:
1۔ پولٹکس کے ساتھ جب مذہب مل جائے تو تقدس آجاتا ہے، اس کا کیا مطلب ہے۔ 2۔ دین اور سیاست میں جدائی اور دین پرسنل چوائس ہے اور سیاست سماجی قبولیت کی بنیاد پر ہوتا ہے، میں فرق کیا ہے۔