وزڈم میگزین
الرسالہ، مئی ۲۰۱۶، صفحہ ۴۳
3- سیاست میں دین کو کب داخلہ ملے گا، کیا اس وقت جب کہ لوگ اس کے لیے تیار ہوں ۔ ( حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تمل ناڈو )
جواب
1- پولیٹکس جب سیکولر ذہن کے ساتھ چلائی جائے تو وہ ایک دنیوی معاملہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر سیکولر پولیٹکس میں فیصلے کی بنیاد ہمیشہ عقل ہوتی ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ اپنی سرگرمیوں کو نتیجے کے اعتبار سے جانچتے ہیں۔ ان کی سرگرمی اگر مثبت نتیجہ پیدا کرے تو وہ اس پر قائم رہیں گے، اور اگر ان کی سرگرمیاں بے نتیجہ دکھائی دیں تو وہ ان پر از سر نو غور کریں گے۔ وہ اپنی سرگرمیوں کی نئی منصوبہ بندی کریں گے۔ اس کے برعکس، مذہبی ذہن کے لوگ جب پولیٹکس اختیار کریں تو اپنے مزاج کی بنا پر ان کے لیے سارا مسئلہ عقیدہ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس بنا پر ان کی پولیٹکس، دوسرے مذہبی اعمال کی طرح مقدس بن جاتی ہے۔ وہ اس پر نظر ثانی نہیں کرتے، خواہ اسی راستے میں وہ تباہ ہو کر رہ جائیں۔ وہ ہلاکت کو شہادت کا درجہ دے کر ہر حال میں اس پر قائم رہتے ہیں۔
2- سیاست ہمیشہ ایک حریف (rival) پیدا کرتی ہے۔ سیاست سسٹم میں بدلاؤ کا نشانہ دیتی ہے۔ اس بنا پر اول دن سے ایسا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا سیاست پر عملی قبضہ ہے، ان سے ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے۔ اس ٹکراؤ سے بچنے کی عملی صورت یہ ہے کہ سیاست کو عقیدہ کا مسئلہ نہ بنایا جائے، بلکہ اس کو سماجی انتخاب کا مسئلہ بنا دیا جائے۔
3- مذہب میں عملی سیاست کا داخلہ عقیدہ کی بنیاد پر نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ سماجی حالات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ جیسے سماجی حالات ویسی عملی سیاست۔ ایک حدیث کا مطالعہ کر کے اس حقیقت کو سمجھا جا سکتا ہے: عن عائشة قالت: إنما نزل أول ما نزل منه سورة من المفصل، فيها ذكر الجنة والنار، حتى إذا ثاب الناس إلى الإسلام نزل الحلال والحرام، ولو نزل أول شيء : لا تشربوا الخمر، لقالوا: لا ندع الخمر أبدا، ولو نزل: لا تزنوا، لقالوا: لا ندع الزنا أبدا، لقد نزل بمكة على محمد صلى الله عليه وسلم وإني لجارية أ لعب : بَلِ السّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ} [54:46] و ما نزلت سورة البقرة و النساء إلا وأنا عنده ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر: 4993)۔