تحریک اور دعا
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۶، صفحہ ۲۷
دعوت الی اللہ کا یہ کام عوامی ذوق کے خلاف ایک کام ہے۔ اس بنا پر بنی بنائی بھیڑ اس کے لیے کبھی موجود نہیں ہوتی۔ ایسی تحریک کا ساتھ صرف وہ لوگ دیتے ہیں جو تلاش حق کا جذبہ اپنے اندر رکھتے ہوں ۔ ایسے لوگ کہیں ایک جگہ موجود نہیں ہوتے۔ وہ مختلف مقامات پر بکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اکٹھا کر کے ایک ٹیم بنانا کسی انسان کے بس میں نہیں ہوتا ہے۔ اس لیے دعوت الی اللہ کی تحریک اپنے آغاز ہی سے ایک مبنی بر دعا ء تحریک بن جاتی ہے۔ داعی کو اول دن سے دعا کو اپنی تحریک کا لازمی جزء بنانا پڑتا ہے۔ کیوں کہ یہ صرف اللہ عالم الغیب ہے جو جانتا ہے کہ حق کے متلاشی افراد کہاں کہاں موجود ہیں۔ وہ اس قسم کے بکھرے ہوئے افراد کو منتخب کر کے ان کو داعی کا ساتھی بنا دیتا ہے۔
ہر تحریک کی ایک نفسیات ہوتی ہے۔ ہر تحریک اپنی نفسیات کے اعتبار سے تحریک کے داعی کے اندر مخصوص مزاج بناتی ہے۔ مثلاً عوامی تحریک عملاً ایک انسان رخی تحریک ہوتی ہے۔ اس کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ کس طرح وہ بات کہی جائے جو عوام کے اندر جوش خروش پیدا کرے، اور وہ تحریک کی حمایت کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ اس کے برعکس، دعوت کی تحریک ایک خدا رخی تحریک ہوتی ہے۔ اس کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ اللہ سے نصرت کی دعا کی جائے، زیادہ سے زیادہ اللہ کو اپنی مدد کے لیے پکارا جائے۔ دعوت کی تحریک میں جو درجہ اللہ کا ہوتا ہے، عوامی تحریکوں میں وہی درجہ عملاً عوام کا بن جاتا ہے۔ دعوت الی اللہ کے کام میں داعی کا کنسرن (concern) اللہ ہوتا ہے۔ جب کہ عوامی ذوق کا کام کرنے والوں کے لیے خود عوام اس کا کنسرن (concern) بن جاتے ہیں۔
عوامی تحریک کی کامیابی یہ ہے کہ عوام کی بھیڑ اس کے گرد جمع ہو جائے۔ اس کے نام پر بڑے بڑے جلسے ہونے لگیں ۔ چندا دینے والے اس کے نام پر اپنی جیبیں خالی کر دیں۔ اس کے برعکس، دعوت الی اللہ کے کام کی کامیابی یہ ہے کہ وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ (22:40) کی مصداق بن جائے۔ اس کی مجالس میں فرشتے شرکت کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2016 All issues