خواص کی ذمہ داری
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۶، صفحہ ۲۸
خواص کی ذمہ داری
ایک حدیث رسول میں ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: من سن سنة حسنة فعمل بها، كان له أجرها ومثل أجر من عمل بها، لا ينقص من أجورهم شيئا، ومن سن سنة سيئة فعمل بها، كان عليه وزرها ووزر من عمل بها، لا ينقص من أوزارهم شيئ (ابن ماجه، حدیث نمبر (203) یعنی جس شخص نے ایک اچھی سنت قائم کی پھر اس نے اس پر عمل کیا، تو اس کو اپنے عمل کا اجر ملے گا، اور اس کے برابر بھی جس نے اس طریقے پر عمل کیا، بغیر اس کے کہ دوسرے عمل کرنے والے کے اجر میں کوئی کمی ہو۔ اور جس نے ایک بری سنت قائم کی اور اس پر عمل کیا، تو اس پر اس کا بوجھ ہوگا، اور ان لوگوں کا بوجھ بھی جنھوں نے اس کے طریقے پر عمل کیا، بعد والوں کے بوجھ میں کسی کمی کے بغیر۔ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ عام لوگوں کی نسبت سے نہیں ہے بلکہ خواص کی نسبت سے ہے۔ یعنی ایسے اشخاص کی نسبت سے جو لوگوں کے لیے قابل تقلید بن جائیں، اور بعد کے لوگ ان کے نمونے کی پیروی کریں۔ آج کل کی زبان میں ایسے افراد کو ٹرینڈ سیٹر (trendsetter) کہا جاسکتا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی گروہ کے خواص کی ذمے داری بہت زیادہ ہے۔ ان کو چاہیے کہ وہ کوئی کام کرنے سے پہلے بہت زیادہ سوچیں۔ کیوں کہ وہ جس کام کو کریں گے، دوسرے لوگ خود بھی ویسے ہی کرنے لگیں گے۔ یہاں تک کہ وہ رواج بڑھتا رہے گا، اور یہ ناممکن ہو جائے گا کہ لوگوں کو اس سے روکا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ خواص کی ذمے داری عوام کی ذمے داری سے بہت زیادہ ہے۔ ہر سماج میں ایسا ہوتا ہے کہ کچھ افراد کو خواص کا درجہ مل جاتا ہے۔ جن کی تقلید دوسرے لوگ کریں۔ ایسے لوگوں کو اپنے عمل کے معاملے میں بے حد محتاط ہونا چاہیے۔ اس معاملے میں کوئی عذر ان کے لیے عذر نہیں بن سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2016 All issues