Al-Risala · July 2016 · page 43

“Don't smoke, even Abdulla”,

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۶، صفحہ ۴۳

سوال و جواب سوال غیبت اور تنقید میں کیا فرق ہے، اس کی وضاحت فرمائیں۔ (شہنو از ظفر، دہلی) جواب غیبت کا حکم قرآن کی سورہ الحجرات آیت نمبر 12 میں آیا ہے۔ اسی طرح غیبت کے بارے میں ایک مشہور حدیث ہے۔ یہ حدیث صحیح مسلم حدیث نمبر 2589 کے تحت موجود ہے۔ علماء نے اس پر کافی لکھا ہے۔ آپ اس کے بارے قرآن کی تفسیروں اور حدیث کی شرحوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ غیبت کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے: آدمی کسی شخص کے پیٹھ پیچھے اس کے متعلق ایسی بات کہے جو اگرا سے معلوم ہو تو اس کو نا گوار گزرے۔ یہ غیبت کی درست تعریف ہے۔ لیکن تنقید (criticism) کا معاملہ اس سے الگ ہے۔ غیبت اور تنقید کو ہم معنی سمجھنا صحیح نہیں۔ غیبت کی اصل پیٹھ کے پیچھے برائی کرنا (backbiting) ہے ۔ یہ بلاشبہ ایک اخلاقی برائی ہے۔ اور قرآن و حدیث میں جس چیز کو برا بتایا گیا ہے وہ یہی غیر اخلاقی عادت ہے۔ کسی کی برائی اگر اس کے سامنے کی جائے تو اس آدمی کو موقع ہوتا ہے کہ وہ اس کی وضاحت کرے ۔ آدمی کی غیر موجودگی میں اس کی برائی کرنا اس لیے غلط ہے کہ اس کی وضاحت کرنے کے لیے وہ وہاں موجود نہیں ہوتا۔

غیبت ایک اخلاقی برائی ہے۔ اس کے مقابلے میں تنقید ایک علمی ضرورت ہے۔ اس اعتبار سے تنقید کا زیادہ درست لفظ تجزیہ (analysis) ہے۔ تجزیہ ایک ایسی علمی ضرورت ہے جس کے بغیر علم کا ارتقاء نہیں ہوسکتا۔ تنقید کو غیبت کے ہم معنی سمجھنا اور اس پر پابندی لگانا علمی ترقی اور ذہنی ڈیولپمنٹ (intellectual development) کو ختم کر دیتا ہے۔ اس کے بعد جو چیز باقی رہتی ہے، وہ ذہنی جمود (intellectual stagnation) ہے۔ علمی تنقید کا تعلق کسی شخص کی ذاتی برائی بیان کرنا نہیں ہوتا۔ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ معلوم حقائق (known facts) کی بنیاد پر کسی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2016 All issues

Printed page