“Don't smoke, even Abdulla”,
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۶، صفحہ ۴۴
کے نقطہ نظر کا صحت و سقم بیان کرنا۔
شخصی برائی اور علمی تجزیہ کے درمیان یہ فرق ہے کہ شخصی برائی کا صحیح یا غلط ہونا صرف وہی آدمی جان سکتا ہے جس کی ذات کے بارے میں برائی کی گئی ہو۔ اس کی ذات کے باہر ایسا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا جس سے یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس کی ذات کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ درست ہے یا نہیں ۔ اس لیے شخصی برائی (غیبت) کی یہ لازمی شرط ہے کہ اس کو جب بیان کیا جائے تو وہاں خود وہ شخص موجود ہو جس کی ذات کے بارے میں برائی بیان کی گئی ہے۔
تجزیاتی تنقید (critical analysis) کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ تجزیاتی تنقید ہمیشہ معلوم حقائق (known facts) کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں ہمیشہ خارجی ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔ اس لیے ریکارڈ سے تقابل کر کے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ تنقید کرنے والے کی تنقید درست تھی یا غلط۔
مثلاً اگر آپ کسی کے بارے میں یہ کہیں کہ وہ منافق ہے۔ تو یہ قول ایک سبجیکٹیو (subjective) قول ہوگا۔ اس قول کی تحقیق کرنے کے لیے کوئی خارجی مواد نہیں ملے گا۔ اس لیے اس طرح کے بیان کے لیے ضروری ہے کہ متعلق شخص وہاں موجود ہوتا کہ وہ ایسے کسی قول کی خود سے وضاحت کر سکے۔ اس کے برعکس، اگر آپ کسی کے بارے میں یہ کہیں کہ اس نے اپنی فلاں مطبوعہ کتاب میں فلاں واقعہ کی تعریف غلط لکھی ہے، تو ہر شخص کو یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ اس مطبوعہ کتاب کو حاصل کرے اور تاریخی ریکارڈ سے تقابل کر کے اس بیان کا صحیح یا غلط ہونا معلوم کرے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی شخص کی ذات کے بارے میں تنقیص نا جائز ہے۔ اور کسی شخص کی بات کا علمی تجزیہ کرنا عین جائز ہے۔ ناگپور اور کامٹی میں الرسالہ مشن کے افراد کی ماہانہ میٹنگ ہر مہینہ کے پہلے اتوار کو ہوتی ہے۔ رابطہ قائم فرمائیں:
Mukhtar Ansari - 09371745384, Khalilur Rehaman - 9370050442 Irfan Rasheedi - 9604367878
‹ Previous page Next page › Contents of July 2016 All issues