Al-Risala · August 2016 · page 21

سمجھا جاتا تھا۔ ہی

الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۲۱

’’ جدید طبیعیات کی روشنی میں کائنات مادی تشریح ( material representation) کو قبول نہیں کرتی۔ اور اس کی وجہ میرے نزدیک یہ ہے کہ اب وہ محض ایک ذہنی تصور (mental concept) ہو کر رہ گئی ہے۔ ‘‘ The Mysterious Universe, 1948 (p. 123)

جینز کے الفاظ میں:

If the universe is a universe of thought, then its creation must have been an act of thought. (pp. 133–34)

یعنی جب کائنات ایک تصوراتی کائنات ہے تو اس کی تخلیق بھی ایک تصوراتی عمل سے ہونی چاہئے۔ وہ کہتا ہے کہ مادہ کو امواج برق سے تعبیر کرنے کا جدید نظریہ انسانی تخیل کے لئے بالکل نا قابل ادراک ہے۔ چناں چہ کہا جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ لہریں محض امکان کی لہریں (waves of probability) ہوں جن کا کوئی وجود نہ ہو— یہ اور اس طرح کے دوسرے وجود سے سر جیمز جینز اس نتیجے تک پہنچا ہے کہ کائنات کی حقیقت مادہ نہیں، بلکہ تصور ہے۔ یہ تصور کہاں واقع ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایک عظیم کائناتی ریاضی داں (mathematical thinker) کے ذہن میں ہے۔ کیونکہ اس کا ڈھانچہ، جو ہمارے علم میں آتا ہے، وہ مکمل طور پر ریاضیاتی ڈھانچہ ہے۔ یہاں میں اس کا ایک اقتباس نقل کروں گا:

’’یہ کہنا صحیح ہوگا کہ علم کا دریا پچھلے چند سالوں میں ایک نئے رخ پر مڑا ہے۔ تیس سال پہلے ہم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم ایک ایسی حقیقت کے سامنے ہیں جو اپنی نوعیت میں مشینی (mechanical) قسم کی ہے۔ ایسا نظر آتا تھا کہ کائنات ایٹموں کے ایک ایسے بے ترتیب انبار پر مشتمل ہے جو اتفاقی طور پر اکٹھا ہو گئے ہیں اور جن کا کام یہ ہے کہ بے مقصد اور اندھی طاقتوں کے عمل کے تحت، جو کوئی شعور نہیں رکھتیں، کچھ زمانے کے لئے بے معنی رقص کریں جس کے ختم ہونے پر محض ایک مردہ کائنات باقی رہ جائے۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues

Printed page