Al-Risala · August 2016 · page 22

سمجھا جاتا تھا۔ ہی

الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۲۲

خالص میکانکی دنیا میں ، مذکورہ بالا اندھی طاقتوں کے عمل کے دوران میں، زندگی محض اتفاق سے وجود میں آگئی۔ کائنات کا ایک بہت ہی چھوٹا گوشہ یا امکان کے طور پر اس طرح کے کئی گوشے کچھ عرصے کے لئے اتفاقی طور پر ذی شعور ہو گئے ہیں اور یہ بھی ایک بے روح دنیا کو چھوڑ کر بالآخر ایک روز ختم ہو جائیں گے۔ آج ایسے قوی دلائل موجود ہیں جو طبیعی سائنس کو یہ ماننے پر مجبور کرتے ہیں کہ علم کا در یا ایک غیر مشینی حقیقت (non-mechanical reality) کی طرف چلا جا رہا ہے۔ کائنات ایک بہت بڑی مشین کے بجائے ایک بہت بڑے خیال (great thought) سے زیادہ مشابہ معلوم ہوتی ہے۔ ذہن (mind) اتفاقاً محض اجنبی کی حیثیت سے اس مادی دنیا میں وارد نہیں ہو گیا ہے۔ اب ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ رہے ہیں کہ ذہن کا عالم مادی کے خالق اور حکمراں کی حیثیت سے استقبال کریں ۔ یہ ذہن بلاشبہ ہمارے شخصی ذہن کی طرح نہیں ہے ۔ بلکہ ایسا ذہن ہے جس نے مادی ایٹم سے انسانی دماغ کی تخلیق کی۔ اور یہ سب کچھ ایک اسکیم کی شکل میں پہلے سے اس کے ذہن میں موجود تھا۔ جدید علم ہم کو مجبور کرتا ہے کہ ہم دنیا کے بارے میں اپنے خیالات پر نظر ثانی کریں جو ہم نے جلدی میں قائم کر لئے تھے ۔ ہم نے دریافت کر لیا ہے کہ کائنات ایک منصوبہ ساز یا حکرماں (designing or controlling power) کی شہادت دے رہی ہے جو ہمارے شخصی ذہن سے بہت کچھ مشابہ ہے ۔ جذبات و احساسات کے اعتبار سے نہیں بلکہ اس طرزِ پر سوچنے کے اعتبار سے جس کو ہم ریاضیاتی ذہن (Mathematical Mind) کے الفاظ میں ادا کر سکتے ہیں۔ “ The Mysterious Universe. (pp. 136-38)

بیسویں صدی کے نصف اوّل میں مذکورہ کام جو ہو رہا تھا، اس کو ایک لفظ میں، spiritualization of science کہا جا سکتا ہے۔ یہ کام اس وقت اعلیٰ ترین سائنسی دماغ کر

‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues

Printed page