Al-Risala · August 2016 · page 23

سمجھا جاتا تھا۔ ہی

الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۲۳

رہے تھے۔ مثلاً وائٹ ہیڈ، سر آرتھر ایڈنگٹن اور سر جیمز جینز، وغیرہ۔ مگر بیسویں صدی کے نصف آخر میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس قسم کے اعلیٰ دماغ دوبارہ اس علمی تحریک کو نہ مل سکے، جس کو ہم نے اسپر یچولائزیشن آف سائنس کا نام دیا ہے۔

اس کا سبب غالباً عالمی سماج میں وہ نیا ظاہر ہ تھا جس کو کنزیومر ازم کہا جاتا ہے۔ کنزیومرازم کی غیر معمولی مقبولیت نے صرف ان چیزوں کو اہمیت دے دی جو مارکیٹ ایبل تھیں۔ مذکورہ عمل تھیوریٹیکل سائنس سے تعلق رکھتا تھا۔ اور تھیوریٹیکل سائنس میں کمرشیل ویلوز یاد نہیں ہوتی۔ اس لیے تمام اعلیٰ دماغ کلنکل سائنس کے شعبوں میں کام کرنے لگے۔ کیوں کے تمام بڑے بڑے اقتصادی فائدے سائنس کے کلنکل شعبوں سے متعلق ہو گئے تھے۔ اس طرح تھیوریٹیکل سائنس میں ریسرچ کا کام اپنی آخری تکمیل تک پہو نچنے سے پہلے رک گیا۔ اب ضرورت تھی کے بڑے بڑے مذہبی دماغ اس کام میں لگیں اور اس کو اس کی آخری تکمیل تک پہونچائیں۔ مگر بد قسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔ مذہبی حلقے میں اعلیٰ دماغ موجود تھے۔ مگر وہ اس اصل کام کو چھوڑ کر دوسرے کاموں میں لگ گئے ۔ جدید تہذیب کے ظہور کے بعد اہل مذاہب کے لیے یہ نیا مسئلہ پیدا ہو گیا تھا کہ لوگ جدید تعلیم اور جدید افکار سے متاثر ہو کر مذہب کے روایتی عقیدے پر شک کرنے لگے تھے۔ چناں چہ تمام بڑے بڑے مذہبی دماغ اس کے دفاع میں لگ گئے ۔ ہندوؤں میں اس زمانے میں بڑے بڑے دماغ پیدا ہوئے مثلاً ڈاکٹر رادھا کرشنن (وفات: 1975) وغیرہ۔ مگر یہ لوگ ہندو مذہب کی میتھالوجی کے حق میں بطور خود ریشنل پروف فراہم کرنے میں مصروف ہو گیے۔ اسی طرح عیسائیوں میں بڑے بڑے دماغ پیدا ہوئے۔ مثلاً ڈاکٹربلی گراہم، وغیرہ۔ ان لوگوں نے بھی یہی کیا کہ عیسائیت کے روایتی عقائد، تثلیث اور کفارہ وغیرہ کو بطور خود عقلی بنیاد فراہم کرنے میں مصروف ہو گیے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، ان کے یہاں بھی اسی زمانے میں بڑے بڑے دماغ پیداہوئے مثلاً سید جمال الدین افغانی، وغیرہ۔ مگر مسلم اہل دماغ ایک اور غلطی میں مبتلا ہو گیے۔ عین اسی زمانے میں یہ ہوا کہ مسلمانوں کو سیاسی زوال پیش آ گیا۔ چناں چہ مسلمانوں کے تمام اعلیٰ دماغ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues

Printed page