Al-Risala · August 2016 · page 24

سمجھا جاتا تھا۔ ہی

الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۲۴

پولیٹکل محاذ پر مصروف ہوگئے ۔ کچھ افراد نے پولیٹکل لڑائی کے لیے اپنی زندگی وقف کردی۔ کچھ اور افراد نے اسلام کو پولیٹکل انٹرپریٹیشن دینے کو سب سے بڑا کام سمجھ لیا۔ اس طرح یہ ہوا کہ مسلم اہل دماغ سیاست کے جنگل میں کھو گیے۔ وہ مذکورہ عمل کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے۔ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے میں سب سے بڑا کام اعلائے کلمہ اسلام کا ہے۔ مگر اس کام کے لیے نہ تو مسلح جہاد کی ضرورت ہے اور نہ اسلام کو پولیٹکل ثابت کرنے سے اسلام میں کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے، اور نہ بن لادن جیسے لوگ اسی معاملے میں کوئی پازیٹیورول ادا کر سکتے ہیں۔ اس قسم کی تدبیروں کے غلط ہونے کے لیے یہی کافی ثبوت ہے کہ دو سو سال تک مسلمانوں کی کئی جنریشن ان راہوں میں قربانی دیتی رہی مگر اصل مطلوب مقصد ایک فیصد بھی حاصل نہ ہو سکا۔ اس پہلو سے موجودہ زمانے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسلام نے اپنے حق میں انسانی علم کی بنیاد کھودی ہے۔ یہ علمی بنیاد دوبارہ اس طرح فراہم ہوسکتی ہے کہ اُس عمل کو آخری تکمیل تک پہنچایا جائے، جس کو ہم نے اسپر یچولائزیشن آف سائنس کہا ہے۔ ضرورت ہے کہ مسلمانوں کے اعلیٰ دماغ اس کام میں اپنے آپ کو وقف کریں آج مسلمانوں کو بن لادن جیسے لوگوں کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ ضرورت ہے کہ ان کے اندر وائٹ ہیڈ، آر تھر ایڈنگٹن اور جیمز جینز جیسے افراد پیدا ہوں۔ بن لادن جیسے لوگ صرف تخریب کا کام کر سکتے ہیں، جب کہ آج اصل ضرورت یہ ہے کہ مثبت تعمیر کا کام کیا جائے۔ خاص طور پر علمی اور سائنسی تعمیر۔

قرآن میں یہ خبر دی گئی ہے کہ خدا نے انسان کو دنیا کی تمام چیزوں کا علم دے دیا (وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاءَ كُلَّهَا) البقرة، آیت 30۔ انسانی برین کے بارے میں جدید دریافت گویا اس آیت کی تفسیر ہے۔ جدید دریافت بتاتی ہے کہ ہر انسانی برین میں بے شمار پارٹکلس ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک سو ملین بلین بلین سے زیادہ پارٹکل۔ یہ کوئی سینڈ پارٹکل کے مانند نہیں، بلکہ وہ انفارمیشن پارٹکل ہیں۔ ان پارٹکل کے ذریعے گویا خدا نے ہر قسم کی معلومات کو انسانی دماغ میں فیڈ کر دیا ہے۔ ان پارٹیکل میں فرکل معلومات بھی ہیں اور اسپر یچول معلومات بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues

Printed page