اپنا گھر، ٹسٹ گھر
الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۲۵
موجودہ زمانے میں سائنس دانوں نے کائنات کو دریافت کر کے بے شمار چیزیں بنائی ہیں۔ یہ دریافتیں در اصل دریافتیں نہیں بلکہ وہ انسانی دماغ میں پہلے سے موجود انھیں انفارمیشن پارٹیکلس کی آن فولڈنگ ہیں۔ اس طرح انسان نے بہت بڑی مقدار میں اپنے دماغ میں فیڈ کی ہوئی فزیکل معلومات کو ان فولڈ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
مگر جہاں تک دماغ میں فیڈ کی ہوئی سپر بچول انفارمیشن کا تعلق ہے اس کا بڑا حصہ ابھی تک ان فولڈ نہ ہوسکا۔ دماغ میں فیڈ کی ہوئی سپر بچول انفارمیشن کو ان فولڈ کرنے کا کام ابھی باقی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم اہل دماغ کو یہی کام کرنا ہے۔ یہی وہ کام ہے جس کو انجام دینے پر اعلائے کلمۂ اسلام کا دروازہ ان کے لیے کھلے گا۔
اپنا گھر، ٹسٹ گھر
اس دنیا میں آدمی ایک گھر بناتا ہے اور اس کو وہ اپنا گھر کہتا ہے۔ وہ اپنے نام پر اس کا نام رکھتا ہے۔ یہی معاملہ تمام چیزوں کا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر گھر، ٹسٹ ہاؤس ہے۔ اس دنیا میں ہر کار، ٹسٹ کار ہے۔ اس دنیا میں ہر پراپرٹی، ٹسٹ پراپرٹی ہے۔ اس دنیا میں ہر اولاد، ٹسٹ اولاد ہے۔ اس دنیا کی تمام چیزیں ٹسٹ کا سامان ہیں۔ مگر آدمی اس سب سے بڑی حقیقت کو بھولا ہوا رہتا ہے، یہاں تک کہ اچانک موت آتی ہے اور وہ تمام چیزوں کو چھوڑ کر بالکل تنہا اگلے مرحلہ حیات میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جن چیزوں کو میں اپنی چیز سمجھتا تھا، وہ خدا کی طرف سے امتحان کے لیے وقتی طور پر لی ہوئی تھیں۔ پچھلا دور حیات ختم ہوتے ہی وہ سب کی سب مجھ سے چھین لی گئیں۔ اب مجھے ایک ایسی دنیا میں رہنا ہے جہاں مجھے مکمل طور پر محرومی کی حالت میں زندگی گزارنا ہے۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ لوگ ہوں گے جن کو ان کے حسن عمل کے نتیجے میں دوبارہ تمام چیزیں بطور انعام دے دی جائیں گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues