Al-Risala · September 2016 · page 20

دعویٰ کی زبان

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۰

دعویٰ کی زبان

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے موقع پر کہا تھا : انا النبي لا كذب ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 2864 ) ۔ یعنی میں نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں۔ یہ محض دعویٰ کی زبان نہیں تھی، بلکہ وہ ایک حقیقت واقعہ کا اعلان تھا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا ذکر قرآن (المنافقون: 1) میں موجود ہے۔ اسی طرح جبریل فرشتہ نے ظاہر ہو کر براہ راست طور پر کہا تھا: یا محمد أبشر! فإنك نبي هذه الأمة (سيرة ابن کثیر، بیروت، 1976، 1/407)۔ یعنی اے محمد، بشارت ہو، کیوں کہ تم بلاشبہ اس امت کے نبی ہو۔

مگر کسی غیر نبی کو دین کے معاملے میں اس طرح دعویٰ کی زبان بولنا جائز نہیں۔ کوئی اور شخص نہیں کہہ سکتا کہ میں مہدی ہوں، میں مسیح موعود ہوں، میں مجدد ہوں، وغیرہ۔ حتیٰ کہ کسی شخص کو یہ حق بھی نہیں کہ وہ کہے کہ میری توبہ، تو بہ نصوح ہے، معراج، حج مبرور ہے، میں ایک نجات یافتہ انسان ہوں، وغیرہ۔ اس قسم کے کلام کا حق صرف اللہ رب العالمین کو ہے۔ کوئی شخص اس قسم کی بات کہے تو وہ بلاشبہ ایک ایسی بات ہوگی جس کا حق اللہ نے کسی کو نہیں دیا۔

دین کے بارے میں اس طرح کا کلام صرف اللہ عالم الغیب کے لیے سزاوار ہے، اور یہ واقعہ دنیا میں بھی ہونے والا نہیں، یہ صرف آخرت میں ہوگا، جب کہ اللہ رب العالمین اپنے علم کے مطابق، ہر عورت اور مرد کے لیے یہ اعلان کرے گا کہ اس کا درجہ دین میں کیا تھا، اور آخرت میں اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانے والا ہے۔

اس طرح کے دینی معاملے میں خواب یا کشف کا بھی ہرگز کوئی اعتبار نہیں۔ اگر کوئی شخص اس قسم کا کوئی خواب دیکھے یا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے اس نوعیت کا کوئی خواب نظر آئے تو وہ بھی خواب دیکھنے والے کا ایک شخصی معاملہ ہوگا، ایسا خواب ہرگز دوسروں کے لیے کوئی حجت نہیں۔ دین کی بنیاد وحی الہی پر ہے، نہ کہ کسی انسان کے قول پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2016 All issues

Printed page