خیر کا قانون
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۱
خیر کا قانون
ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: من يرد الله به خیرا یفقهه فی الدین، وإنما أنا قاسم والله يعطي (صحیح البخاری، حدیث نمبر 71) یعنی اللہ جس کے لیے خیر کا ارادہ کرتا ہے، وہ اس کو دین کا فہم عطا کر دیتا ہے۔ میرا کام تقسیم کرنا ہے، اور دینے والا صرف خدا ہے۔ اس حدیثِ رسول میں خیر کے عطیے کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ یہ کوئی پراسرار بات نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ فطرت کے معلوم قانون کے مطابق ہوتا ہے۔ دین کی گہری سمجھ بلا شبہ بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ نعمت صرف اس انسان کو ملتی ہے جو اس کا استحقاق پیدا کرے۔ دین میں گہری سمجھ کسی کو بلا شبہ اللہ کی توفیق سے ملتی ہے، لیکن اس توفیق کی ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ آدمی اپنے آپ کو وعایہ (container) بنائے۔ وہ اپنے ذہن کی اس طرح تربیت کرے کہ وہ چیزوں کو اس کے صحیح رخ سے لے، وہ چیزوں کو غلط رخ سے لینے والا نہ بنے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم ایک نعمت ہے جو ہر لمحہ خدا کی طرف سے انسانوں کے اوپر آتی رہتی ہے، لیکن اس نعمت کو وہی انسان اخذ کر پاتا ہے، جس نے پہلے سے اپنے آپ کو اخذ کرنے والا بنایا ہو۔
یہ وہ انسان ہے جو لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ وہ لوگوں کی باتوں سے کوئی برا اثر نہ لے، وہ منفی تجربات کے باوجود اپنے مثبت مزاج کو باقی رکھے۔ اخلاقی برائیاں ہمیشہ سماجی تعلقات کے دوران پیدا ہوتی ہیں۔ سماجی تعلقات کے دوران کوئی انسان اپنے مثبت ذہن کی بنا پر گہری فہم تک پہنچ جاتا ہے، اور کوئی شخص اپنے منفی ذہن کی بنا پر حقیقت کے فہم سے دور ہو جاتا ہے۔ خیر کا عطیہ ہمیشہ اللہ کی طرف سے آتا ہے، لیکن اخذ کی صلاحیت وہ چیز ہے جس کو انسان خود اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔ جس انسان نے اپنے اندر اخذ کی صلاحیت پیدا کرلی، اس کو ضرور اللہ کی طرف سے خیر کی نعمت ملے گی، اور جس انسان نے اپنے اندر مطلوب صلاحیت پیدا نہیں کی، اس کو کبھی خیر کی نعمت ملنے والی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2016 All issues