سیکنڈ چانس
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۲
سیکنڈ چانس
مغفرت کے بارے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (39:53)۔ کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔ یہ بات ایک اور آیت میں ان الفاظ میں آئی ہے: فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (5:39)۔ پھر جس نے اپنے ظلم کے بعد تو بہ کی اور اصلاح کر لی تو اللہ بے شک اس پر توجہ کرے گا ۔ اور اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔
اس طرح کی آیتوں میں جو بات کہی گئی ہے۔ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عمل کے دو درجے ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی عمل صالح کرے اور وہ ذنب (sin) سے بچا ہوا ہو۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ آدمی ایمان قبول کر کے اسلامی زندگی گزارے، لیکن اسی کے ساتھ وہ کبھی ذنب میں بھی مبتلا ہو جائے۔ پہلا آدمی وہ ہے جس نے فرسٹ چانس (first chance) کو آویل کیا۔
دوسری قسم کے مومن کا کیس سیکنڈ چانس (second chance) کو آویل (avail)
کرنے کا کیس ہے۔ اور یہ توبہ کی صورت میں ہوتا ہے۔ یعنی آدمی ایمان کے باوجود کبھی گناہ میں مبتلا ہو جائے۔ پھر اس کو انتباہ ہو، وہ تو بہ کرے، اور ندامت (repentance) کے احساس کے ساتھ اللہ سے معافی مانگے۔ یہ دوسرا شخص بھی اللہ کی رحمت میں اپنا حصہ پائے گا۔ اس کا کیس اللہ کے قانون کے مطابق، سیکنڈ چانس کو آویل کرنے کا کیس ہوگا۔
اللہ کے قانون کے مطابق ، توبہ خود بھی ایک عمل صالح ہے۔ تو بہ یہ ہے کہ گناہ کرنے کے بعد آدمی اللہ کی طرف رجوع کرے، اس کے اندر ندامت کا جذبہ پیدا ہو، غلطی اس کے احساس کو جگائے، وہ نئی اسپرٹ کے ساتھ اللہ کی طرف دوڑ پڑے، اس کا مردہ ایمان دوبارہ زندہ ایمان بن جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2016 All issues