تدبر کلمپر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۶
ایک نعمت ہے، وہ دینِ حق کے لئے ایک عظیم مؤید (supporter) کی حیثیت رکھتی ہے۔ جن لوگوں کے اندر تدبر کی صلاحیت نہ ہو، ان کو دکھائی دے گا کہ یہ تہذیب برائی کا ایک جنگل ہے۔ اس میں الحاد (atheism) ہے، اس میں برہنگی (nudity) ہے، اس میں انارکی (anarchy) ہے، اس میں کرپشن (corruption) ہے، اس میں ایکسپلاٹیشن (exploitation) ہے، اس میں لا دینی کلچر ہے، وغیرہ۔ یہ کہہ کر وہ اس تہذیب کے دشمن ہو جائیں گے۔ لیکن جن لوگوں کا ذہن بیدار ہو، جن کو تدبر کی صلاحیت ملی ہو، وہ غور و فکر کر کے اس تہذیب میں چھپے ہوئے حکمت و معرفت کے تکٹر کو دریافت کریں گے۔ اور پھر ان کو نظر آئے گا کہ یہ تہذیب ایک خدائی نصرت ہے، جس کے ظہور کے لئے اللہ نے مغرب کے سیکولر لوگوں کو استعمال کیا۔ اصحابِ تدبر کو نظر آئے گا کہ اس تہذیب کے ذریعے سائنس وجود میں آئی، اور سائنسی دریافتوں کی بنا پر خدا کی کتاب کے بہت سے اشارے قابل فہم بن گئے، اس تہذیب کے ذریعے یہ ہوا کہ فکری آزادی انسان کا ناقابلِ تنسیخ حق (right) قرار پایا، اس تہذیب کے ذریعے پہلی بار پرنٹنگ پریس اور کمیونی کیشن کا دور آیا، جس نے دین کی تبلیغ کے لئے عالمی امکانات کھول دیے، اس تہذیب کے ذریعے پہلی بار تمام قوموں نے متفقہ طور پر امن (peace) کو ایک یونیورسل اصول (universal norm) کی حیثیت دے دی، اس تہذیب کی وجہ سے پہلی بار دنیا میں کھلا پن (openness) کا دور آیا جس نے ہمیشہ کے لئے مذہبی جبر (religious persecution) کا خاتمہ کر دیا۔
تدبر دین کا خلاصہ ہے، تدبر حکمت کے خزانوں کو کھولتا ہے، تدبر انسان کے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ تدبر کے ذریعے آدمی اس قابل بنتا ہے کہ وہ جھاڑ جھنکار کے جنگل کو باغ کی صورت میں دیکھے۔ وہ منفی واقعات کو مثبت تجربے میں تبدیل کر سکے، وہ غیب میں چھپی ہوئی معرفت کو دریافت کرلے۔ تدبر انسان کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔ تدبر کے ساتھ انسان، انسان ہے، اور تدبر کے بغیر وہ انسان کی صورت میں صرف حیوان۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues