قرآن کا موضوع
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۷
قرآن کا موضوع
قرآن میں کل تقریباً 6600 آیتیں ہیں۔ قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں بہت کم ایسی آیتیں ہیں جو احکام سے تعلق رکھتی ہیں۔ قرآن کی بیشتر آیتیں وہ ہیں جن میں اللہ کی تخلیقات کا بیان ہے۔ جن کو قرآن میں آیات اللہ ، کلمات اللہ ، آلاء اللہ جیسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ قرآن میں بار بار کہا گیا ہے کہ اللہ کی نشانیوں پر غور کرو، اور ان سے معرفت کا رزق حاصل کرو۔ قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الفاتحہ: 1)۔ قرآن کا پورا مجموعہ گویا اس آیت کی تفسیر ہے۔ اس مطالعے کے مطابق قرآن احکام کی کتاب نہیں ہے، بلکہ وہ معرفت کی کتاب ہے۔ بعد کے زمانے میں قرآن کے مطالعے کے معاملے میں سب سے بڑا انحراف یہ ہوا کہ قرآن کی یہ خصوصیت علمائے امت کے ذہن سے اوجھل ہوگئی۔ وہ قرآن کو ایک کتاب احکام کے طور پر دیکھنے لگے۔ جب کہ اصل حقیقت یہ تھی کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس میں اللہ کے تخلیقی منصوبے (creation plan) کو بتایا گیا ہے۔ اصل حقیقت کے اعتبار سے قرآن کی حیثیت کتاب معرفت کی ہے، لیکن امت کے بعد کے زمانے میں قرآن کو کتاب احکام کی حیثیت دے دی گئی امت کے تمام بگاڑ کا اصل سبب یہی انحراف ہے۔ یہ انحراف عباسی دور میں قرآن کے فقہی مطالعے کی صورت میں پیدا ہوا۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ قرآن کو فقہی احکام کے ماخذ کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ بیسویں صدی کا یہ واقعہ اسی ذہن کی توسیع ہے۔ اس دور میں ایسے علماء اور مفکرین پیدا ہوئے، جو قرآن کو نظام (system) کے ماخذ کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کے مطالعے کا نقطہ آغاز (starting point) بدل گیا۔ یہ وہی ظاہرہ ہے جس کو حدیث میں اتباع یہود (البخاری، حدیث نمبر 3456) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس حدیث میں یہود کا اتباع سے مراد، زوال یافتہ امت کا اتباع ہے۔ دور زوال میں یہود کے علماء نے موسوی دین کو موسوی شریعت کی حیثیت دے دی۔ تورات اور تالمود کے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues