قرآن کا موضوع
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۸
حوالے سے انھوں نے ایک مجموعہ احکام تیار کیا، اور دین موسیٰ کے نام پر اسی کا چرچا کرنے لگے۔ چنانچہ بعد کے زمانے میں یہودیت کا جوورژن (version) تیار ہوا وہ تمام ترقوانین (laws) پر مبنی تھا۔ یہودیت کے اس وزن میں معرفت اور دعوت جیسی چیزیں تمام تر حذف ہوگئیں۔ یہی واقعہ امت مسلمہ کے درمیان پیش آیا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے علماء اور رہنما کے یہاں جس دین کا چرچا ہے، اس میں معرفت اور دعوت جیسی اصل تعلیمات حذف ہوگئی ہیں، اس کے بجائے سارا زورقوانین اور احکام پر دیا جا رہا ہے، جس کو بطور خود وہ اسلامی نظام کا نام دیتے ہیں۔ اسلام کو بطور سیاسی اور سماجی نظام پیش کرنا، ان کا واحد نشانہ بن گیا ہے، اور معرفت اور دعوت جیسی چیزیں ان کے یہاں بھی اسی طرح حذف ہوگئی ہیں، جس طرح وہ اس سے پہلے یہود کے یہاں حذف ہوگئی تھیں۔ اس انحراف کو پولیٹیکل انٹرپریٹیشن آف اسلام یا مبنی بر نظام اسلام(system-based Islam) کہا جاسکتا ہے۔ اس تصور دین کا نتیجہ ہے کہ امت میں ایک ابدی قسم کے ٹکراؤ کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ یہ ٹکراؤ ابتدائی طور پر دوسروں کو اپنا حریف (rival) سمجھنے کی صورت میں شروع ہوتا ہے، اور پھر بڑھ کر تشدد اور جنگ اور خودکش بمباری تک پہنچ جاتا ہے۔ قرآن کو اگر کتاب معرفت کے طور پر لیا جائے تو اس کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ قرآن کی آیتوں میں تدبر کرو، قرآن کے ذریعے خالق کی معرفت حاصل کرو، اور پھر خالق کی معرفت میں جینے والے بن جاؤ، یعنی وہ انسان جس کو قرآن میں ربانی انسان (آل عمران:79) کہا گیا ہے۔ گویا قرآن اپنی اصل حیثیت کے اعتبار سے ہدایت خداوندی کی پیروی (following) کا نام ہے۔ مگر قرآن کی نظامی یا قانونی تعبیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن عملی نفاذ (implementation) کی کتاب بن گیا۔ اب امت کا نشانہ یہ قرار پایا کہ وہ موجودہ قانونی اور سیاسی نظام کولٹر کر بدلے، اور اس کی جگہ وہ قانونی اور سیاسی نظام نافذ کرے جس کو بطور خود اس نے اسلامی نظام کا درجہ دے دیا ہے۔
قرآن وسنت کے مطالعے کا یہی غلط اسلوب ہے جس نے عملاً دین اسلام کو دین یہود بنا دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues