Al-Risala · October 2016 · page 9

قرآن کا موضوع

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۹

دینِ اسلام کا اصل نشانہ کامل معنوں میں ایک پر امن نشانہ تھا۔ اس نشانہ کا مرکزی تصور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ پر مبنی پر امن کلچر وجود میں لانا ہے۔ لیکن دورِ زوال کی یہودیت کی اتباع کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام سیاست کا موضوع بن گیا۔ لوگ اسلام کے سیاسی نظام کو قائم کرنے کے نام پر دوسری قوموں سے لڑنے لگے۔ اور جب لڑائی کے باوجود مفروضہ سیاسی نظام قائم نہیں ہوا تو انھوں نے فتویٰ دیا کہ خودکش بمباری (suicide bombing) کے ذریعے مفروضہ باطل نظام کو ڈی اسٹیبلائز (destabilize) کیا جائے۔ یہ فتویٰ سراسر غلط فتویٰ تھا۔ کیوں کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق خودکشی یقینی طور پر ایک حرام فعل تھا۔ خودکشی کے ذریعے مرنے والا شخص ابدی طور پر جہنم کا مستحق بن جاتا ہے۔ البخاری کی ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ کے زمانے کے ایک مسلمان نے ایک غزوہ میں شرکت کی ۔ وہ مخالفینِ اسلام کے مقابلے میں لڑا، اور بظاہر بڑے بڑے جہادی کارنامے انجام دیے، مگر آخر میں زخموں کی تاب نہ لا کر خودکشی کرکے اپنا خاتمہ کر لیا۔ اس خودکشی کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : إِنَّه مِن أھل النار (البخاری، حدیث نمبر 2898)۔ پیغمبر اسلام کے یہ الفاظ ہر اس شخص پر صادق آتے ہیں، جو خودکشی کرکے اپنے آپ کو ہلاک کرے۔ کوئی شخص اگر اسلامی مفاد کے نام پر خودکشی کرے تب بھی وہ اس معاملے میں مستثنیٰ نہیں قرار پائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں تحریک (movement) صرف دو مقصد کے لئے چلائی جائے گی، ایک معرفت اور دوسرے دعوت۔ کسی اسلامی تحریک کا پہلا نشانہ یہ ہوگا کہ ایسے افراد پیدا ہوں جو معرفت رب میں جینے والے ہوں، جو الحمد للہ کلچر کو اپنی ذاتی زندگی میں اختیار کریں۔ اسی عمل کے نتیجے میں وہ شخصیت بنتی ہے جس کو قرآن میں مزکی شخصیت (ط: 76) کہا گیا ہے۔ مزکی شخصیت والے افراد ہی وہ افراد ہیں، جن کو آخرت میں جنت کے ابدی باغوں میں جگہ ملے گی۔ اس کے بعد اسلامی تحریک کا دوسرا نشانہ وہ ہے جس کو دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔ یعنی پرامن انداز میں تمام انسانوں کو اللہ کا پیغام پہنچانا۔ دعوت مکمل طور پر ایک غیر سیاسی مشن ہے، اس کا سیاست سے یا ٹکراؤ سے کوئی تعلق نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page