Al-Risala · October 2016 · page 10

دو قسم کی آزمائشیں

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۰

دو قسم کی آزمائشیں

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کے لئے ابتلاء (test) کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جس کا ذکر سورۃ البقرۃ میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (2:155-156) ۔ اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں جس ابتلا کا ذکر ہے، وہ ابتلاء بقدرِ شیٔ ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس سے مراد ابتلاء عام ہے جو ہر پیدا ہونے والے انسان کو ضرور پیش آتا ہے۔ اس ابتلاء عام میں کسی کا کوئی استثناء (exception) نہیں۔

دوسرا ابتلاء وہ ہے جس کو ابتلاء خاص کہا جا سکتا ہے۔ اس ابتلاء کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 33 میں ان الفاظ میں آیا ہے: هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا (الاحزاب: 11)۔ اس ابتلاء شدید کا ذکر قرآن میں غزوہ احزاب کے ذیل میں آیا ہے۔ دونوں کے اسلوب میں فرق پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نقصان بقدرِ شیٔ سے مراد عام نقصان ہے، جو کسی نہ کسی اعتبار سے ہر پیدا ہونے والے انسان کو پہنچتا ہے، خواہ وہ مومن ہو یا غیر مومن۔ لیکن ابتلاء شدید ایک خصوصی ابتلاء ہے، جس کا تعلق دعوت توحید کے مشن سے ہے۔ ابتلاء کا یہ معاملہ اہل ایمان کے ساتھ پیش آتا ہے، یعنی وہ لوگ جو توحید کے مشن کو اپنا مشن بنائیں۔

اس معاملے کی مزید وضاحت قرآن کی ایک اور آیت سے ملتی ہے، یہ آیت اصحاب رسول کی دعا کی صورت میں قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے: رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا (2:286) ۔ ہمارے رب، ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا بوجھ تو نے ڈالا تھا ہم سے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page