آزادی نہ کہ اختیار
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۱
اگلوں پر۔ اس آیت میں دعا کی صورت میں دراصل اللہ تعالیٰ کے ایک فیصلے کا اعلان ہے، وہ یہ کہ انسانی تاریخ کو مینج (manage) کر کے حالات میں ایسی تبدیلی لانا جس کے بعد یہ ممکن ہو جائے کہ توحید کی دعوت کا مشن جو اصحابِ رسول کے دور سے پہلے شدید مخالفت کے ماحول میں کرنا پڑتا تھا، وہ موافقت کے ماحول میں کرنا ممکن ہو جائے۔
اس معاملے کو غزوہ احزاب کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ غزوہ احزاب جو 5ھ میں ہوا تھا، اس میں اہل توحید اور اہل شرک کے درمیان ایک لمبی خندق کھودی گئی تھی۔ اس خندق کی بنا پر دونوں فریقوں کے درمیان ایک حاجب (buffer) قائم ہو گیا، جس نے دونوں کے درمیان جنگ کے امکان کو ختم کر دیا۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں اقوام متحدہ (UNO) کی عالمی تنظیم نے زیادہ بڑے پیمانے پر ایک حاجب (buffer) قائم کر دیا ہے، جس نے تاریخ میں پہلی بار اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ توحید کا مشن عالمی سطح پر پر امن انداز میں چلایا جائے اور دونوں فریقوں کے درمیان کسی ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے۔
آزادی نہ کہ اختیار
اس دنیا میں انسان کو آزادی حاصل ہے، مگر اس کو اختیار حاصل نہیں۔ انسان اگر اس حقیقت کو سمجھ لے تو وہ کبھی سرکشی نہ کرے۔
ایک شخص کسی کو بے عزت کرنے کے لیے اپنی زبان کھول سکتا ہے، مگر کسی کا بے عزت ہونا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خود خدا اس کے لیے بے عزتی کا فیصلہ نہ کرے۔ ایک شخص کسی کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا سکتا ہے۔ مگر وہ اس وقت تک کسی کو قتل نہیں کر سکتا جب تک اسی شخص کے ہاتھ سے اس کی موت مقدر نہ کر دی گئی ہو۔ ایک شخص کسی کی جائیداد پر قبضہ کرنے کی سازش کر سکتا، مگر اس کی سازش اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک خدا اپنی کسی مصلحت کے تحت اس کے حق میں ایسا فیصلہ نہ کر دے۔ (ڈائری، 1983)
‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues