Al-Risala · October 2016 · page 12

پیغمبر اور اس کی تاریخ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۲

پیغمبر اور اس کی تاریخ

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن توحید کا مشن تھا۔ آپ اپنی پوری عمر اسی مشن کے لیے پرامن طور پر کام کرتے رہے۔ توحید (oneness of God) کا عقیدہ، اسلام میں کلیدی عقیدے کی حیثیت رکھتا ہے۔ توحید گویا اسلام کے درخت کا بیج (seed) ہے۔ جس آدمی کو توحید کی معرفت ہو جائے اس آدمی کی پوری زندگی صبغۃ اللہ (البقرہ: 138) کی عملی تصویر بن جائے گی۔ پیغمبر اسلام نے 23 سال تک اپنے مشن کے لیے کام کیا، تقریبا نصف حصہ مکہ میں اور بقیہ نصف مدینہ میں۔ اس مدت میں مختلف قسم کے تاریخی واقعات پیش آئے۔ یہ تاریخی واقعات اسلام کی آئیڈیالوجی کا حصہ نہ تھے، بلکہ وہ زمانی سبب (age factor) کی بنا پر آپ کی زندگی کا حصہ بنے۔ توحید کی آئیڈیالوجی آپ کے مشن کا اصل حصہ (real part) تھی، اور تاریخی عامل کے تحت جو واقعات پیش آئے، وہ آپ کے مشن کا اضافی حصہ (relative part) تھے۔

مگر بعد کے زمانے کے علماء نے شعوری یا غیر شعوری طور پر، اس فرق کو ملحوظ نہ رکھا۔ مثلا آپ کے مکی دور میں کعبہ میں تین سو ساٹھ بت تھے، رسول اللہ نے بتوں کے مسئلے پر قریش سے ٹکراؤ نہیں کیا۔ بلکہ آپ نے یہی کیا کہ بتوں کی موجودگی کو عملاً نظر انداز کرتے ہوئے لوگوں کے سامنے پرامن طور پر قرآن کا پیغام پہنچاتے رہے۔ بعد کے علماء نے اس حکمت کو نہیں سمجھا، وہ مسئلہ (problem) کو نشانہ بنا کر اس سے لڑتے رہے۔ انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ پرابلم کو نظر انداز کر کے پرامن دعوت کا کام کریں۔

اسی قسم کی ایک مثال صلح حدیبیہ (Hudaybiya Agreement) ہے۔ صلح حدیبیہ پیغمبرِ اسلام کی ایک سنت ہے۔ یہ سنت بتاتی ہے کہ فریق ثانی کی یک طرفہ شرطوں کو مانتے ہوئے، ان سے صلح کرلو، تاکہ دعوت کے مواقع تمھارے لیے کھل جائیں۔ دورِ جدید کے علماء کے لیے بار بار حدیبیہ جیسی صورت پیش آئی، لیکن انھوں نے اس معاملے میں اس پیغمبرانہ سنت پر عمل نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page