Al-Risala · October 2016 · page 13

پیغمبر اور اس کی تاریخ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۳

کیا ۔ موجودہ زمانے میں نوآبادیات (colonialism) اور صهیونیت (Zionism) اس کی واضح مثالیں ہیں ۔

لیکن یہی علماء رسول اللہ کی سنت جہاد کو دھوم کے ساتھ بیان کرتے ہیں ۔ وہ غیر متعلق دلائل اور خود ساختہ تعبیرات کے ذریعے یہ ثابت کرتے ہیں کہ جہاد (بمعنی قتال) کی سنت سب سے بڑی سنت ہے۔ اس پر ہمیں ہر حال میں عمل کرنا ہے، خواہ ہمارے لوگ قتل کیے جائیں، اور ہماری جائدادوں کو تباہ کیا جائے۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ یہ علماء سنت کعبہ اور سنت حدیبیہ کو یک سر چھوڑے ہوئے ہیں، لیکن سنت جہاد (بمعنی قتال) کو ہر قیمت پر اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ اس معاملے میں انھوں نے خود کش بمباری (suicide bombing) تک کو جائز کر رکھا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں علماء اور مسلم رہنماؤں کے ذہن سے اسلام کا دعوتی مشن حذف ہو گیا۔ اسلام کا اصل مشن دعوت الی اللہ ہے۔ بقیہ تمام چیزیں اسی مشن کی نسبت سے اسلام کا حصہ بنتی ہیں۔ لیکن بعد کے زمانے کے علماء دعوت کے فریضہ سے عملاً بے خبر ہو گئے۔ اسی بے خبری کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلام کی بعد کی لٹریری تاریخ (literary history) میں کوئی قابلِ ذکر کتاب دعوت الی اللہ کے موضوع پر موجود نہیں۔ فقہائے اسلام میں سے کسی فقیہ نے دعوت الی اللہ کے موضوع پر کوئی کتاب نہیں لکھی۔ الغزالی، ابن تیمیہ، عز الدین عبد السلام سے لے کر شاہ ولی اللہ دہلوی تک کسی نے بھی دعوت الی اللہ کے موضوع پر معلوم طور پر کوئی کتاب نہیں لکھی۔ جب کہ پوری لٹریری تاریخ میں تقریباً ہر شخص جہاد و قتال کے موضوع پر لکھتا اور بولتا رہا ہے۔ اس عمومی غفلت کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بعد کے دور کے تقریباً تمام علماء اور فقہاء، اسلام کے مشن کے بارے میں عمومی سطح پر ایک اجتہادی خطا کا شکار ہو گئے ۔ وہ یہ کہ انھوں دعوت کو اسلام کا نشانہ سمجھنے کے بجائے، امتِ مسلمہ کے سیاسی غلبہ کو اسلام کا نشانہ سمجھ لیا۔ دعوت الی اللہ کا نشانہ پر امن جد و جہد کا مزاج بناتا ہے۔ جب کہ سیاسی غلبہ کا نشانہ جنگ و قتال کو امت مسلمہ کا نشانہ بنا دیتا ہے۔ یہ نشانہ بلا شبہ پیغمبر کے نشانے کے مطابق نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page