جنگ کے تین دور
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۴
جنگ کے تین دور
انسان پیدائشی طور پر خود پسند (egoist by birth) ہے۔ وہ دنیا کو اپنی پسند کے مطابق دیکھنا چاہتا ہے۔ دوسرے کا اعتراف کرنا انسان کے مزاج کے خلاف ہے۔ انسان کی یہی وہ صفت ہے، جس سے مختلف قسم کے سماجی ٹکراؤ (social conflict) پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سماجی ٹکراؤ جب تشدد کی حد تک پہنچ جائے تو اسی کو جنگ کہا جاتا ہے۔ انسان کے اسی مزاج کی بنا پر تاریخ میں ہمیشہ ٹکراؤ کا ماحول قائم رہا ہے، نفرت، تشدد، جنگ سب اسی کی مختلف صورتیں ہیں۔
اس اعتبار سے تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر جنگ کے تین دور ہیں، سیاسی جنگ (political war)، طبقاتی جنگ (class war) اور نظریاتی جنگ (ideological war)۔ قدیم تاریخ کا مبادرو سیاسی لڑائیوں کا دور ہے۔ یہ سیاسی لڑائیاں بنیادی طور پر زمینی علاقہ (territory) پر قبضہ کے لئے ہوتی تھیں۔ انیسویں صدی میں کمیونزم (communism) کے عنوان کے تحت جنگ کی نئی صورت پیدا ہوئی۔ کمیونسٹ مفکرین نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ہر قسم کی برائی کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ سماجی تقسیم ہے۔ اس تقسیم کو ختم کر کے بے طبقاتی سماج (classless society) بنادی جائے تو ایک ایسا سماج وجود میں آئے گا جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہوگا۔ یہ نظریہ لوگوں کے درمیان کافی مقبول ہوا، یہاں تک کہ کمیونسٹ پارٹی کو یہ موقع ملا کہ وہ 1917 میں روس میں اپنی پہلی حکومت قائم کریں۔ جس نے بعد کو توسیع پا کر ایک سو پر پاور کی صورت اختیار کرلی، جس کو سوویت روس کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد دنیا میں مسلسل قسم کےدو متحارب بلاک (warring blocks) بن گئے۔ ایک کی نمائندگی سوویت روس کر رہا تھا، اور دوسرے کی نمائندگی یوایس اے (USA)۔ دو بڑی طاقتوں کا یہ ٹکراؤ 1991 میں ختم ہوا، جب کہ سوویت یونین ٹوٹ گیا۔
سوویت یونین کے خاتمہ کے ساتھ عملاً طبقاتی جنگ کا خاتمہ بھی ہو گیا۔ لیکن کمیونسٹ تحریک کے اثر سے ایک نیا فکری دور پیدا ہوا، جس کو نظریاتی جنگ کا دور کہا جا سکتا ہے۔ نظریاتی جنگ کا یہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues