جنگ کے تین دور
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۵
دور عمومی طور پر مقبول نہ ہو سکا لیکن بیسویں صدی کے مسلمانوں میں اس کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس صدی میں کچھ ایسے مسلم مفکرین پیدا ہوئے جنھوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر پیش کی۔ یہ سیاسی فکر عرب اور نان عرب، دونوں علاقوں میں تیزی سے پھیل گیا۔
اسلام کی سیاسی تعبیر کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام ایک مکمل نظام (complete system) ہے۔ امت مسلمہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس نظام کو ساری دنیا میں قائم کریں۔ اسلامی نظام کے سوا جو نظام دنیا میں رائج ہے، وہ طاغوتی نظام ہے۔ امت مسلمہ کا نصب العین یہ ہے کہ وہ ہر قیمت پر اس طاغوتی نظام کی تمام صورتوں کا خاتمہ کریں، اور اس کی جگہ عملاً ساری دنیا میں اسلام کا نظام قائم کر دیں۔ بیسویں صدی میں اس مقصد کے تحت عرب دنیا اور غیر عرب دنیا میں بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں، ان تحریکوں نے پہلے لٹریچر کے ذریعے اپنی تحریک کا آغاز کیا۔ جب انھوں نے دیکھا کہ لٹریچر کے ذریعے غالب قوتوں کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے تو انھوں نے الیکشن کے ذریعے ان قوتوں کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی، مگر وہ الیکشن کے ذریعے بھی اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ اس کے بعد انھوں نے غالب طاقتوں کے خلاف متشددانہ جنگ شروع کردی۔ مگر یہاں بھی ان کو اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ عظیم قربانیوں کے باوجود ان کے لئے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ غالب طاقتوں کو اقتدار سے ہٹائیں، اور اپنا سیاسی غلبہ قائم کر کے عالمی اسلامی حکومت کی طرف اپنا مارچ شروع کر دیں۔ اس ناکامی کے بعد ان کے اندر ایک تیسرا مہلک دور شروع ہوا، جس کو عام طور پر خود کش بمباری (suicide bombing) کہا جاتا ہے، یعنی خود کو ہلاک کر کے اپنے مفروضہ دشمن کے زور کو توڑنا، اور اس کو ڈی اسٹیبلائز (de-stabilize) کرنا۔ اسلام کے نام پر نظریاتی جنگ کا یہی وہ دور ہے جو اکیسویں صدی میں جاری ہے۔ اس دور کی ایک مثال 11 ستمبر 2001 کا وہ واقعہ ہے، جب کہ کچھ مسلم نوجوانوں نے اپنے آپ کو ہلاک کر کے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو تباہ کیا۔ یہاں یہ سوال ہے کہ اسلام کی سیاسی تعبیر کا نظریہ عملی ناکامی کے باوجود ختم کیوں نہیں ہوا، جیسا کہ دوسرے نظریات عملی طور پر ناممکن ثابت ہونے کے بعد ختم ہو گئے۔ کیوں ایسا ہے کہ اسلام کی سیاسی تعبیر کا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues