Al-Risala · October 2016 · page 22

اسلام اور محبت انسانی

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۲

مطابق اہل ایمان پر فرض ہے کہ وہ ہر حال میں دوسروں کے ساتھ پرامن روش اختیار کرے۔ وہ کسی بھی چیز کو عذر بنا کر تشدد کا رویہ اختیار نہ کرے۔ اسلام کے مطابق تشدد کی شریعت شیطان کی شریعت ہے، تشدد کی شریعت اسلام کی شریعت نہیں۔ اس دنیا میں انسان کو آزادی حاصل ہے۔ اس بنا پر ہر انسان بشمول مسلم کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ نزاع کے موقع پر امن کا طریقہ چھوڑ کر تشدد کا طریقہ اختیار کرے، لیکن خدا کے قانون کے مطابق اس کا ایسا کرنا اپنی آزادی کا غلط استعمال ہوگا، اور آزادی کا غلط استعمال اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ خواہ آزادی کا یہ غلط استعمال مسلم نے کیا ہو یا غیر مسلم نے۔ تشدد کا ہر طریقہ اللہ کی دی ہوئی آزادی کا غلط استعمال ہے۔ اجتماعی معاملات میں کسی انسان کے لئے صرف ایک آپشن (option) ہے، اور وہ امن کا آپشن ہے۔ اسلام کے مطابق تشدد کوئی آپشن ہی نہیں۔

محبت کا معاملہ صرف اخلاق کا معاملہ نہیں۔ محبت کا تعلق براہ راست خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) سے ہے۔ انسان کے بارے میں اس کے خالق کا جو منصوبہ ہے، وہ صرف اس طرح پورا ہو سکتا ہے، جب کہ انسانوں کے درمیان نارمل تعلق قائم ہوں۔ نارمل تعلق کے ماحول میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ ہر انسان فطرت کی سطح پر اپنی شخصیت کی تعمیر کر سکے۔ کسی انسان کو یہ موقع نہ رہے کہ وہ کہہ سکے کہ فلاں عذر کی بنا پر اس کو اپنی شخصیت کی تعمیر کا موقع نہیں ملا۔ تشدد لوگوں کو عذر کا موقع دیتا ہے۔ اس کے برعکس، امن کا ماحول لوگوں کے لئے یہ امکان ختم کر دیتا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے مواخذہ کے وقت کوئی عذر پیش کر سکے۔

ذمہ دار کون (Who is to blame)؟

موجودہ زمانے میں مسلمان تشدد (terrorism) کے جن واقعات میں ملوث ہیں، ان کے بارے میں ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ واقعات تو رد عمل (reaction) کے طور پر ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف جو نا انصافی کی جا رہی ہے اس کا فطری نتیجہ ہے کہ مسلمان کے اندر رد عمل کی نفسیات پیدا ہو۔ اور یہ رد عمل بڑھتے بڑھتے تشدد، حتیٰ کہ خود کش بمباری تک پہنچ جائے۔ مثلاً

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page