Al-Risala · October 2016 · page 23

اسلام اور محبت انسانی

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۳

فلسطین میں اسرائیل عربوں پر ظلم کر رہا ہے، ایسی حالت میں عربوں کے اندر اس کا ردعمل پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔

یہ دلیل سرتا سر غیر اسلامی ہے۔ اسلام میں ردعمل (reaction) کا کوئی تصور موجود نہیں۔ اس طرح کے نزاعی معاملات میں اسلام کی تعلیمات صبر کے اصول پر قائم ہیں۔ قرآن کے بالکل شروع میں سورہ المدثر نازل ہوئی۔ اس میں پیغمبر کو یہ حکم دیا گیا: وَلِرَبِّكَ فَاصْبِر (74:7)۔ قرآن کا بیشتر حصہ ساتویں صدی کے ربع اول میں اترا۔ اس زمانے میں عرب میں ٹرائبل کلچر قائم تھا۔ اس بنا پر اس زمانے میں پیغمبر اور پیغمبر کے متبعین پر ہر قسم کی زیادتیاں کی گئیں۔ مگر قرآن میں ہمیشہ یہ حکم دیا گیا کہ تم صبر کی روش پر قائم رہو۔

صبر کوئی بے عملی کی تعلیم نہیں۔ صبر کا مطلب ہے اللہ کے تخلیقی نقشہ سے مطابقت کرنا۔ اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق ہر انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ اس آزادی میں واضح طور پر آزادی کا غلط استعمال بھی شامل ہے۔ جس چیز کو ایک فریق ظلم کہتا ہے، وہ دوسرے فریق کے لئے اپنی خدا داد آزادی کا غلط استعمال ہے۔ ایسی حالت میں ظلم کے خلاف شکایت یا احتجاج کرنا انسان کے خلاف شکایت یا احتجاج نہیں ہے، بلکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔ اور جب معاملہ خدا کے تخلیقی منصوبے کا ہو تو انسان کے لئے اس کے خلاف پروٹیسٹ کا آپشن نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں انسان کے لئے ایک ہی آپشن ہے، اور وہ ہے مبنی بر صبر پلاننگ۔ یعنی ری ایکشن کے بغیر پر امن طور پر حالات کو مینیج (manage) کرنا، تشدد کے بغیر پر امن انداز میں معاملے کا حل تلاش کرنا۔

آخرت وہ دنیا ہے جہاں صرف امر حق میں قیمت ہو، امر غیر حق جہاں بے قیمت ہو کر رہ جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page