اسلام کا رول ماڈل
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۴
اسلام کا رول ماڈل
اسلام کا رول ماڈل عملی اعتبار سے توسع کے اصول پر مبنی ہے ، نہ کہ توحد کے اصول پر۔ یعنی اسلام کے رول ماڈل کے دو پہلو ہیں۔ ایک، فرد کے اعتبار سے، اور دوسرا، مجتمع (society) کے اعتبار سے۔ اسلام کے رول ماڈل کو فکری اعتبار سے سمجھنے کے لئے، یہ اصول بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس اصول کو سامنے رکھ کر اسلام کے رول ماڈل کو متعین کیا جائے تو اس کا تعین نہایت آسان ہوگا۔ اس کے برعکس، اس اصول کو ملحوظ نہ رکھا جائے تو اسلام کے رول ماڈل کو سمجھنا آخری حد تک مشکل بن جاتا ہے۔ اسلام کا رول ماڈل فرد کی نسبت سے ذاتی اختیار (individual choice) پر مبنی ہے۔ اس کے مقابلے میں اجتماعی اعتبار سے اسلام کا رول ماڈل اجتماعی اختیار (social choice) پر مبنی ہے۔ اسلام کے رول ماڈل کے بارے میں یہ تفریق بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
فرد کے اعتبار سے اسلام کا رول ماڈل یہ ہے کہ ہر فرد مطالعہ اور غور وفکر کے ذریعہ اسلام کے آئیڈیل کو دریافت کرے، اور اپنی ذات کو اس آئیڈیل کے مطابق بنائے۔ مثلا عقیدہ کے بارے میں کامل توحید، رسالت کے بارے میں پیغمبر اسلام کو خاتم النبیین سمجھنا، وغیرہ۔ کسی فرد کا واحد نشانہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ فرد کے بارے میں اسلام کی بتائی ہوئی تعلیمات کو اپنی ذاتی زندگی کے لئے واحد معیار سمجھے ، اور اپنے آپ کو ذاتی اعتبار سے کامل طور پر اس معیار کے مطابق بنانے کی کوشش کرے۔ اسلام کے رول ماڈل کا دوسرا پہلو وہ ہے جو اجتماعی زندگی (social life) سے تعلق رکھتا ہے۔ سوشل لائف کے بارے میں اسلام کا رول ماڈل کسی واحد فارم پر مبنی نہیں ہے، بلکہ وہ پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) پر مبنی ہے، یعنی کسی وقت خاص میں جو اجتماعی ماڈل عمومی طور پر لوگوں کے لئے قابل قبول (acceptable) ہو، اس پر اجتماعی نظام کی تشکیل کرنا۔ گویا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues