اسلام کا رول ماڈل
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۵
اسلام کی تعلیم کے مطابق فرد کے لئے نظریاتی اعتبار سے ایک غیر متغیر معیاری ماڈل ہے۔ اس کے برعکس، اجتماعی زندگی کے لئے اس طرح کا واحد غیر متغیر ماڈل نہیں۔ فرد کے معاملے میں اسلام کا رول ماڈل معیار پر مبنی ہے، اور اجتماعی زندگی کے اعتبار سے اسلام کا رول ماڈل معاشرے کے وسیع (acceptability) پر مبنی ہے۔ اسلام کے رول ماڈل کے بارے میں اس دوگانہ اصول کو ماننے کے بعد ہر قسم کے ٹکراؤ کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ کسی شخص کو اپنی ذات کے معاملے میں کامل اختیار حاصل ہے۔ ہر شخص اپنی انفرادی زندگی میں، بلا نزاع، اپنے اختیار کردہ ماڈل کو اختیار کر سکتا ہے۔
ٹکراؤ اور تشدد کی تمام صورتیں اس وقت پیدا ہوتی ہیں، جب کہ اجتماعی زندگی میں توسع کے بجائے تو حد کے اصول کو قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔ کیوں کہ فطرت کے نظام کے مطابق ہر انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ جب ایسا کیا جائے کہ اجتماعی زندگی کے لئے ہر حال میں ایک ناقابل تغیر ماڈل کو نافذ کرنے کی کوشش کی جائے تو لازمی طور پر ایک گروہ کا دوسرے گروہ سے ٹکراؤ پیدا ہو جائے گا۔ مثلاً حاکم (ruler) اور غیر حاکم (ruled) کے درمیان۔ اجتماعی زندگی کے بارے میں اس اصول کو قرآن میں اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ (42:38) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں شوری کے اس اصول نے ایک باقاعدہ تنظیم (institutionalized form) کی حیثیت اختیار کر لی ہے، جس کو جمہوریت (democracy) کہا جاتا ہے۔
فرد کے معاملے میں معیار پسندی اور اجتماعی زندگی کے معاملے میں جمہوریت کا طریقہ عین اسلامی تعلیم کے مطابق ہے۔ اس طریقہ کو غلط طور پر ویٹیکنائزیشن (Vaticanization) یا مذہب اور سیاست کی علاحدگی کا نام دیا جاتا ہے۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ طریقہ مذہب اور سیاست کی علاحدگی کا طریقہ نہیں ہے، بلکہ یہ حقیقت کے اعتراف (acceptance of reality) کا طریقہ ہے۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جس سے انسانی سماج میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا طریقہ عملاً ناقابل عمل طریقہ ہے۔ کیوں کہ مذہب اور سیاست کو ایک کرنے کے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues