اسلام کا رول ماڈل
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۶
نام پر سماج میں ابدی ٹکڑاؤ کا ماحول قائم کرنے کے مترادف ہے۔ ایک ایسا ٹکڑاؤ جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ ویٹیکنزم اپنی حقیقت کے اعتبار سے ناممکن کے مقابلے میں ممکن کا آپشن لینے کا نام ہے، نہ کہ مذہب اور سیاست کی علاحدگی کا نام۔
مشن کی حیثیت سے اسلام کا نشانہ فرد ہے، نہ کہ سسٹم۔ ایک لفظ میں اسلامی مشن کا نشانہ فرد کا اسلامائزیشن ہے، سسٹم کو اسلامائز کرنا اسلام کا نشانہ نہیں۔ زندگی کے بارے میں اسلام کی اسکیم (scheme of things) یہ ہے کہ ہر فرد کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنی شخصیت کا ارتقا کر کے اپنے آپ کو جنتی انسان بنائے۔ اسی نشانے کی بنا پر اسلام میں یہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ سماج کو شوریٰ کے اصول پر مبنی قرار دیا گیا، یعنی سماجی حقائق (social realities) کی بنیاد پر۔ سماج میں فطرت کے اصول کے مطابق ہمیشہ مفادات کا ٹکڑاؤ پایا جاتا ہے، سماج میں اگر ایسا ہو کہ ایک گروہ اپنے سسٹم کو معیار کی حیثیت دے کر اسی کی بنیاد پر پورے سماج کی تشکیل کرنا چاہے تو لازماً مختلف گروہوں کے درمیان ٹکڑاؤ پیش آئے گا۔ ٹکڑاؤ بڑھ کر نفرت اور تشدد کی صورت اختیار کر لے گی، اور پھر یہ ٹکڑاؤ کبھی ختم نہ ہوگا۔ سسٹم کو کسی وحدانی اصول پر قائم کیا جائے تو سماج میں کبھی امن قائم ہونے والا نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کے نشانے کے مطابق جنتی شخصیت کی تعمیر صرف امن کے حالات میں بنتی ہے، نفرت اور تشدد کے حالات میں نہیں۔
اس بنا پر اجتماعی سسٹم کے معاملے میں اسلام نے پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کے اصول کو اختیار کیا ہے۔ یعنی ایسی پالیسی اختیار کرنا، جو سماجی امن کی یقینی ضمانت ہو۔ اس قسم کی یقینی ضمانت صرف اس وقت ممکن ہے، جب کہ سماج کے معاملہ میں ایڈجسٹمنٹ کا اصول اختیار کیا جائے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں حدیبیہ اگر یمنٹ اسی قسم کے ایڈجسٹمنٹ کی ایک مثال ہے۔ اس وقت پیغمبر اسلام نے یک طرفہ ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر فریق ثانی سے امن کا معاہدہ کر لیا، اور پھر اس کے بعد فطری طور پر سماج میں وہ معتدل ماحول قائم ہو گیا، جس کے اندر اسلام کا اصل مشن (Islamization of the individual) کا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues