حقیقت، نہ کہ ظواہر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۷
عمل (process) کامیابی کے ساتھ جاری رکھا جا سکے۔
اس معاملے کو سمجھنا اس وقت زیادہ آسان ہو جاتا ہے جب کہ اس حقیقت کو ملحوظ رکھا جائے کہ اسلام کا مشن پر امن دعوت کا مشن ہے، اسلام کا مشن کسی پولیٹیکل سسٹم کو نافذ کرنے کا مشن نہیں۔ اسلام کا دعوتی مشن صرف اس وقت کامیابی کے ساتھ چل سکتا ہے، جب کہ سماج میں اعتدال کا ماحول ہو۔ اور اعتدال کا ماحول قائم کرنے کی واحد صورت صرف یہ ہے کہ فرداور اجتماع کے معاملے میں فرق کیا جائے۔ فرد کے معاملہ میں آئیڈیل کا اصول اختیار کیا جائے، اور سوشیو۔ پولیٹیکل سسٹم (socio-political system) کے معاملہ میں جمہوریت کا اصول۔
حقیقت، نہ کہ ظواہر
کعبہ کے اوپر غلاف اوڑھانے کا رواج قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کعبہ کے اوپر پہلا غلاف خود حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اوڑھایا تھا۔ اگر چہ یہ بات تاریخی معیار پر ثابت شدہ نہیں۔
قریش اپنے دور میں کعبہ کو غلاف اوڑھاتے رہے۔ فتح مکہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کا موقع نہیں تھا۔ بعد کو جب مکہ فتح ہوا، اس وقت رسول صلی اللہ علیہ کے لیے موقع تھا کہ آپ کعبہ پر نیا غلاف ڈالیں۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ فتح مکہ کے بعد بھی آپ نے اسی غلاف کو باقی رکھا جو قریش (بالفاظ دیگر مشرکین) نے کعبہ کو اوڑھایا تھا۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ ایک عرب خاتون کعبہ کو خوشبو دینے کے لیے کسی خوشبودار چیز کی دھونی دے رہی تھی۔ اس دھونی دینے کے عمل کے دوران کعبہ کے غلاف کو آگ لگ گئی اور وہ جل گیا۔ اس وقت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یمنی کپڑے کا ایک غلاف اس کے اوپر اوڑھایا۔ آپ کے بعد خلفاء کے درمیان اس کی سنت جاری رہی۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اسلام میں حقیقت کی اہمیت ہے، نہ کہ ظواہر کی۔ (ڈائری، 1983)
‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues