Al-Risala · October 2016 · page 28

پیروی اسلام ، تنفیذ اسلام

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۸

پیروی اسلام ، تنفیذ اسلام

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانے میں امت کو نصیحت کرتے ہوئے کہا : ترکت فيكم أمرين لن تضلّوا ما تمسكتم بهما (مؤطا امام مالک، حدیث نمبر 1874)۔ یعنی میں نے تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ہیں، تم گمراہ نہ ہوگے، جب تک ان دونوں کو پکڑے رہو گے۔ اس حدیث میں تمسک کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، تمسک کا مطلب ہے مضبوطی سے پکڑنا (holding fast)۔ یہی امت کے افراد کی اصل ذمے داری ہے۔ امت محمدی کے ہر فرد کو یہ کرنا ہے کہ وہ دین کو دریافت کرے، وہ مطالعہ اور تدبر کے ذریعے اپنی معرفت کی تکمیل کرے، اور اس طرح اپنے آپ کو پوری طرح دین کا پیرو بنالے۔ امت امت کے افراد جب تک تمسک بالکتاب والسنة کے اس اصول کو پکڑے رہیں گے، وہ کبھی گمراہ نہ ہوں گے۔

اس کے برعکس جب ایسا ہو کہ امت اس تعلیم کو لازم کے صیغہ (intransitive verb) میں لینے کے بجائے متعدی کے صیغہ (transitive verb) میں لینے لگے، یعنی متمسک بنو کے بجائے متمسک بناؤ۔ تو اس کے بعد ضلالت کا آغاز ہو جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ دین کی پیروی اختیار کرو کا نظریہ لوگوں کو ہدایت پر قائم کرتا ہے، اور دین کی تنفیذ کرو کا نظریہ لوگوں کو ضلالت کے راستے میں ڈال دیتا ہے۔ موجودہ زمانے میں امت کے اندر جو تشدد پیدا ہوا اس کا سبب یہی ہے۔ بیسویں صدی میں کچھ ایسے مسلم رہنما اٹھے جنھوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر (political interpretation) پیش کی۔ انھوں نے قرآن وسنت کی خود ساختہ تشریح کر کے یہ نظریہ بنایا کہ اسلام ایک مکمل نظام (complete system) ہے۔ اور امت کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ اس نظام کو مکمل اعتبار سے زمین پر نافذ کرے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ جو دین مبنی بر فرد دین تھا، اس کو مبنی بر نظام (system-based) بنادیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page