پیروی اسلام ، تنفیذ اسلام
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۹
مگر یہ سادہ بات نہ تھی۔ جب بھی آپ دین کو پیروی کے بجائے تنفیذ کا موضوع بنائیں گے تو فوراً تشدد شروع ہو جائے گا۔ کیوں کہ یہاں پہلے سے کچھ لوگ ہوں گے جو تنفیذ کے اداروں پر قابض ہوں گے۔ اب آپ کا ذہن یہ کہے گا کہ مجھے ان قابض افراد کو ہٹانا ہے، ان کو قوت نافذہ کے مقام سے ہٹائے بغیر میں اپنی پسند کا نظام نافذ نہیں کر سکتا۔
اسلام کی سیاسی تعبیر کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ امت کے لئے دنیا اپنے اور غیر (we and they) میں تقسیم ہوگئی۔ اس طرح امت کے اندر دوسروں کو اپنا دشمن سمجھنے کا مزاج پیدا ہوا۔ وہ اپنے مفروضہ دشمنوں کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگے۔
اس طرح اسلام کی سیاسی تعبیر ابتداءاً ایک نظریے کی حیثیت رکھتی تھی، لیکن دھیرے دھیرے وہ عملاً ایک متشددانہ نظریہ بن گئی۔ اس کے نتیجے میں مفروضہ دشمنوں کے خلاف جنگ شروع ہو گئی۔ اور جب جنگ میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی تو امت کے اندر نفرت کا ایک پورا جنگل آگ آیا۔ فطری طور پر وہ اپنی نفرت میں اتنے اندھے ہوگئے کہ وہ اپنے مفروضہ دشمنوں کو شکست دینے کے لئے سب کچھ کرنے کو تیار ہوگئے، خواہ جائز ہو یا ناجائز۔ اسی نفرت کا ایک ظاہرہ وہ ہے جس کو خودکش بمباری (suicide bombing) کہا جاتا ہے۔ خودکش بمباری بلاشبہ ایک حرام فعل ہے، لیکن لوگوں نے اس کو استشہاد ( طلب شہادت ) کا نام دے کر جائز کر لیا۔ قرآن وسنت کے مطابق جو فعل جہنم میں لے جانے والا تھا، اس کو خود ساختہ طور پر یہ حیثیت دے دی کہ وہ ان کو سیدھا جنت میں لے جانے والا ہے۔
موجودہ زمانے میں جو مسلم تشدد (Muslim militancy) پیدا ہوا، وہ اسی سیاسی تعبیر دین کا براہ راست نتیجہ ہے۔ موجودہ مسلم تشدد کو جوابی تشدد سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو ختم کرنے کے لئے جوابی آئیڈیالوجی درکار ہے۔ جوابی تشدد ان کو صرف ہلاک کر سکتا ہے، مگر اپنے مفروضہ عقیدے کے مطابق یہ سمجھتے رہیں گے کہ وہ شہید ہو کر جنت میں جا رہے ہیں۔ یعنی پرتشدد کارروائی کے ذریعے اس کا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues