Al-Risala · October 2016 · page 30

پیروی اسلام ، تنفیذ اسلام

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۰

خاتمہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے خاتمے کی صورت صرف یہ ہے کہ ایک طاقت وردلیل کے ذریعے بتایا جائے کہ اسلام کی سیاسی تعبیر ایک باطل تعبیر ہے۔ اسلام کی اصل تعلیمات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ موجودہ مسلم تشدد کو ختم کرنے کے لئے ایک نظریاتی مہم درکار ہے۔ اس کے سوا کوئی اور چیز اس کا خاتمہ کرنے والی نہیں۔

حدیث میں بتایا گیا ہے کہ دور آخر میں امت کے اندر ایک بے حد خطرناک فتنہ پیدا ہوگا، یہ ایک دجالیت کا فتنہ ہوگا۔ دجالیت سے مراد یہی پر فریب تعبیر دین ہے۔ اس نظریے کو دجالی فتنہ اس لئے کہا گیا کہ اس باطل نظریے کو ایسے خوشنما الفاظ میں پیش کیا جائے گا کہ لوگ اس کو باطل سمجھنے سے عاجز رہیں گے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دجالیت سے مراد دجالی نظریہ ہے۔ وہ دجالی نظریہ یہ ہے کہ اسلام کو مکمل نظام کا خوبصورت نام دے کر لوگوں کو دھو کے میں ڈالا جائے، اور اس طرح لوگوں کے اندر یہ ذہن بنایا جائے کہ اسلام ذاتی پیروی کا دین نہیں ہے بلکہ وہ انقلابی دین ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس کو زمین پر مکمل معنوں میں نافذ کیا جائے۔

اس طرح اسلام معرفت کا دین نہ رہا بلکہ وہ جنگ کا دین بن گیا۔ یہی دجالیت موجودہ زمانے میں مسلم تشدد کا اصل سبب ہے۔ اس تشدد کو صرف اس وقت ختم کیا جاسکتا ہے، جب کہ لوگوں کو دلیل کے ذریعے یہ بتایا جائے کہ مکمل نظام کا نظریہ ایک پر فریب دجالی نظریہ ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

اس دجالی نظریے کا ایک خطرناک نتیجہ یہ ہوا کہ امت سے دعوت کا مزاج ختم ہوگیا۔ اصل دینی تصور کے مطابق امت مسلمہ داعی ہے اور دوسری قومیں مدعو۔ اب داعی اور مدعو کے بجائے حریف اور دشمن کی نسبت قائم ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ امت کا اصل مشن دعوت الی اللہ عملاً حذف ہوگیا۔ کیوں کہ دعوت کے لئے نصح (خیر خواہی) کا ذہن درکار ہے۔ دشمنی اور دعوت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page