Al-Risala · October 2016 · page 31

ترکِ رُجز

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۱

ترکِ رُجز

قرآن کی سورہ المدثر اسلام کے ابتدائی زمانے میں اتری۔ اس میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے انذار کا حکم دیا گیا۔ انذار سے مراد وہی چیز ہے، جس کو دعوت الی اللہ کہا جاتا ہے۔ اس حکم کے ساتھ اس کا طریقہ (method) بھی بتا دیا گیا۔ وہ طریقہ یہ تھا کہ رُجز کے معاملے کو نظر انداز کرتے ہوئے دعوت کا کام کرو (دیکھیے سورہ المدثر، آیات 5-2)۔

رُجز کے لفظی معنی گندگی کے ہیں۔ قرآن میں دوسرے مقام پر اس مفہوم کے لئے رِجس (22:30) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب آیت کے مطابق یہ ہے کہ بت پرستی کو چھوڑ دو۔ لیکن سورہ المدثر میں جس رُجز کو چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، اس کا تعلق خود پیغمبر کی ذات سے ہے۔ پیغمبر نے کبھی بت پرستی نہیں کی۔ پھر پیغمبر کے لئے رُجز کو چھوڑ دینے کا مطلب کیا ہے۔ اس کی وضاحت پیغمبر کی عملی تاریخ سے ہوتی ہے۔ پیغمبر نے عرب میں دعوت الی اللہ کا کام کیا۔ اس وقت وہاں مختلف قسم کی برائیاں موجود تھیں۔ مثلاً کعبہ میں 360 بتوں کی موجودگی، مکہ کے لوگوں کا شراب پینا، وغیرہ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برائیوں کو جانا، مگر اُن سے عملی ٹکراؤ نہیں کیا۔ اس کے برعکس آپ نے یہ کیا کہ وقت کی برائیوں سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے، پُر امن انداز میں اپنا دعوتی مشن جاری کیا۔ پیغمبرِ اسلام کا عملی نمونہ قرآن کی آیت کی تفسیر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قوم کی عملی برائیوں سے اعراض کرو، اور مثبت ذہن کے ساتھ پر امن دعوت کا کام کرو۔ سورہ المدثر کی یہ آیت اسلامی مشن کا ایک اہم اصول بتاتی ہے۔ وہ یہ کہ اسلامی مشن کا طریقہ کار کیا ہونا چاہئے۔ یہ طریقِ کار اس اصول پر مبنی ہے کہ وقت کی عملی برائیوں سے اعراض کرنا، اور اسلام کی آئیڈیالوجی کی پرامن انداز میں اشاعت کرنا۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کو اختیار کرنے کے بعد اہلِ ایمان کو اللہ کی نصرت ملتی ہے۔ اگر اس اصول کو اختیار نہ کیا جائے تو ایسے لوگوں کو کبھی اللہ کی نصرت ملنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page