Al-Risala · October 2016 · page 32

ترکِ رُجز

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۲

موجودہ زمانے میں اس اصول کے انطباق (application) کی اہمیت اتنی ہی زیادہ ہے، جتنا کہ اس کی اہمیت اسلام کے دور اول میں تھی۔ اصل یہ ہے کہ انسان کو خالق نے مکمل آزادی دی ہے۔ اس آزادی کے غلط استعمال کی بنا پر ہر زمانے میں سماجی اور سیاسی برائیاں لازماً موجود رہتی ہیں۔ سماجی اور سیاسی برائیوں سے پاک ماحول اس دنیا میں کبھی ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں داعی کا طریقہ کیا ہونا چاہئے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ سماجی اور سیاسی برائیوں سے اعراض کرتے ہوئے، مواقع کو دریافت کرنا، اور ان مواقع کا استعمال کرتے ہوئے، پر امن طور پر دعوتی مشن جاری کرنا۔ مثلاً انڈیا میں اکثریتی فرقہ ایسی کارروائیاں کرتا ہے، جس پر یہاں کے مسلمان برہم ہوتے ہیں، اور ٹکراؤ کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ سراسر غلط ہے۔ پیغمبر کی سنت کے مطابق صحیح طریقہ یہ ہے کہ اکثریتی فرقہ کی ناموافق باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ملک میں پرامن دعوت کا کام کیا جائے۔ انڈیا کے مسلمان اس پیغمبرانہ سنت کو اختیار نہ کر سکے۔ اس لئے یہاں کے مسلمانوں کا مزاج منفی ہو گیا، اور اس کی قیمت یہ دینی پڑی کہ مسلمان اس ملک میں دعوت الی اللہ کا مطلوب فریضہ انجام دینے سے محروم رہے۔ اسی طرح اُس دنیا کا معاملہ ہے، جس کو سیکولر دنیا کہا جاتا ہے۔ سیکولر لوگ فریڈم آف ایکسپریشن (freedom of expression) میں یقین رکھتے ہیں۔ اس بنا پر وہ ہر معاملے میں آزادانہ طور پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ یہ آزادانہ اظہار رائے کبھی پیغمبر اسلام کے بارے میں بھی ہوتا ہے۔ مسلمان اس پر مشتعل ہوجاتے ہیں، اور اس کو شتم رسول (blasphemy) کا نام دے کر اس کے خلاف لڑنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو اپنی اس روش کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ ان کے اور سیکولر طبقے کے درمیان معتدل تعلق قائم نہیں ہوتا۔ اس بنا پر مسلمان، سیکولر لوگوں کے درمیان وہ کام نہیں کر پاتے، جو ان کے اوپر فرض کے درجے میں ضروری ہے۔ یعنی دعوت الی اللہ۔ یہی معاملہ مغربی قوموں کا ہے۔ مغربی قوموں میں جو کلچر رائج ہوا ہے، وہ مسلمانوں کو اسلامی اقدار کے خلاف نظر آتا ہے۔ اس بنا پر مسلمان مغربی قوموں کے خلاف نفرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ نفرت ان کو مثبت سوچ (positive thinking) سے محروم کر دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page