ترکِ رُجز
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۳
مسلمان اور مغربی قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا معتدل رشتہ قائم نہیں ہوتا۔ اس بنا پر یہ ہوتا ہے کہ مسلمان مغربی قوموں کے مقابلے میں دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دینے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ یہی معاملہ امریکا کا ہے۔ ہر قوم کی طرح امریکا کے اپنے قومی مفادات ہیں۔ امریکا اپنے قومی مفاد کے تحت اسرائیل کی حمایت کرتا ہے۔ اس واقعے کی بنا پر ساری دنیا کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ امریکا کو عدوالاسلام رقم واحد کہتے ہیں۔ یعنی امریکا اسلام کا دشمن نمبر ایک (enemy number one) ہے۔ اس منفی ذہن کی بنا پر ساری دنیا کے مسلمان امریکا کے خلاف تشدد کو جائز قرار دیے ہوئے ہیں۔ وہ امریکا سے معتدل تعلق قائم نہ کر سکے۔ اس کا یہ ناقابل تلافی نقصان ہے کہ وہ امریکا کو ایک مدعو ملک کا درجہ نہیں دے سکے۔ وہ امریکا کے اوپر اپنے دعوتی فریضے کو انجام دینے سے محروم رہے۔ سورہ المدثر میں جس پیغمبرانہ اصول کو بتایا گیا، وہ مسلمانوں کی پوری تاریخ میں ایک نامعلوم اصول بنا ہوا ہے۔ مسلم علماء اور مسلم رہنما کبھی اس اصول کو دریافت نہ کر سکے کہ اسلام کے مشن کے لئے ضروری ہے کہ رجز کو اوائڈ کرتے ہوئے، پرامن انداز میں اسلامی مشن کو جاری کیا جائے۔ اس اصول سے بے خبری کی بنا پر مسلمان یہ کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی رجز کو دیکھ کر مشتعل ہوجاتے ہیں۔ وہ لوگوں سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ جس کا آخری نتیجہ تشدد اور ٹکراؤ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ پیغمبرانہ سنت کے مطابق یہ ایک بے حد سنگین غلطی ہے۔ اس کے نقصانات اتنے زیادہ ہیں کہ جن کی کوئی گنتی نہیں۔ اس انحراف میں دنیا کی بھی تباہی ہے، اور آخرت کی بھی۔
رجز کا ظاہرہ، دراصل آزادی کے غلط استعمال کا ظاہر ہ ہے۔ انسان کو یہ آزادی خود خالق نے دی ہے۔ اس آزادی کے غلط استعمال پر خالق آخرت میں یقیناً ان کی گرفت کرے گا، لیکن کسی اور کو یہ حق نہیں کہ وہ آزادی کے غلط استعمال کے حوالے سے لوگوں کے اوپر داروغہ بن جائے۔ ایسا کرنا خدا کے دائرہ (domain) میں داخل ہونا ہے۔ اور کسی مخلوق کو ہرگز یہ حق نہیں کہ وہ خدا کے دائرہ میں داخل ہو جائے۔ ایسا کرنا خود اپنے آپ کو مجرم کے مقام پر کھڑا کرنا ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے دنیا میں ناکامی ہے، اور آخرت میں شدید مواخذے کا اندیشہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues