Al-Risala · October 2016 · page 34

دعوت، ڈیبیٹ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۴

دعوت، ڈیبیٹ

قرآن میں اہل ایمان کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ گفتگو میں جدال احسن کا طریقہ اختیار کریں (النحل، 125)، وہ جدال غیر احسن کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ جدال احسن کیا ہے، اور جدال غیر احسن کیا ہے۔ جدال احسن سے مراد ناصحانہ دعوت (sympathetic dawah) ہے۔ اور جدال غیر احسن سے مراد مخاصمانہ مناظرہ (aggressive debate) ہے۔ اہل ایمان کا مشن دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی اللہ کے پیغام کو پرامن طور پر تمام انسانوں تک پہنچانا۔ مگر یہ کام مکمل طور پر پرامن انداز میں ہونا چاہیے، نہ کہ کسی قسم کے ٹکراؤ کے انداز میں۔

مخاصمانہ مناظرہ (aggressive debate) کیسے پیدا ہوتا ہے۔ اس کا ایک معلوم تاریخی سبب ہے۔ مخاصمانہ مناظرہ دراصل ایک دعوتی امکان کے غلط استعمال سے پیدا ہوتا ہے۔ اس دعوتی امکان کو اگر قرآن کی تعلیم کے مطابق نصح (خیر خواہی) کے انداز میں استعمال کیا جائے تو پرامن دعوہ ورک وجود میں آتا ہے۔ اور اگر اس امکان کا غلط استعمال کیا جائے تو اس سے وہ چیز پیدا ہوتی ہے، جس کو مخاصمانہ مناظرہ (aggressive debate) کہا جاتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ خاتم النبیین سے پہلے اللہ تعالی نے مختلف پیغمبر بھیجے۔ مثلاً حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ، وغیرہ۔ ان پیغمبروں کے اوپر اللہ تعالی نے اپنی کتاب نازل کی تاکہ وہ انسانوں کے لیے ان کی دنیا کی زندگی میں رہنما کتاب (guide book) بنے۔ مگر قدیم زمانہ میں پرنٹنگ پریس نہ ہونے کی بنا پر یہ خدائی کتابیں اپنی اصل حالت میں محفوظ نہ رہیں، ان کے متن (text) میں طرح طرح کی تبدیلیاں ہوگئیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کی زمین پر کوئی ایسی کتاب باقی نہ رہی جس کے ذریعہ انسان اپنے خالق کی معرفت حاصل کرے، اور یہ جانے کہ خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) کے مطابق انسان کا مقصد حیات (purpose of life) کیا ہے۔ اس وقت اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنا آخری رسول (the Final Prophet) دنیا میں بھیجے۔ اور اس کے اوپر ساتویں

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page