دعوت، ڈیبیٹ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۵
صدی کے ربع اول میں اپنی وہ کتاب اتارے جس کو آج ہم قرآن کے نام سے جانتے ہیں۔ قرآن کے بعد چوں کہ کوئی اور پیغمبر آنے والا نہ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انتہائی اہتمام کیا کہ قرآن کامل طور پر محفوظ کتاب کی حیثیت سے باقی رہے، قرآن کے متن (text) میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی ہرگز ہونے نہ پائے۔ اس مقصد کے لیے ابتدائی زمانہ، صحابہ و تابعین اور ان کے بعد کے اہل ایمان نے اس معاملہ میں مکمل کوششیں کیں۔
انھوں نے قرآن کو ایک طرف مکمل طور پر یاد کر کے اپنے ذہن میں محفوظ کر لیا، اور روزانہ تلاوت کی صورت میں اس کو اپنے ذہن میں پختہ کرتے رہے۔ دوسری طرف ایسے لوگ بڑی تعداد میں پیدا ہوئے، جنھوں نے کتابت کے فن کو سیکھا، اور قدیم زمانہ کے کاغذ پر لکھ کر قرآن کی کتابت شدہ جلدیں (copies) تیار کیں، اور ان کو بڑے پیمانے پر اس وقت کی دنیا میں پھیلا دیا۔ یہ گویا حفاظت قرآن کا ایک دہرا انتظام (double system of preservation) تھا، جو قرآن کی کامل حفاظت کا ضامن تھا۔
ساتویں صدی سے لے کر 15 ویں صدی تک یہ طریقہ مسلسل جاری رہا۔ یہاں تک کہ ساری دنیا میں بہت بڑی تعداد میں قرآن کے حافظ پیدا ہو گیے۔ اور اسی کے ساتھ بڑی تعداد میں کتابت شدہ قرآن کی جلدیں ہر جگہ پھیل گئیں ۔ یہ سلسلہ 15 ویں صدی عیسوی تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ گوٹن برگ (Johannes Gutenberg) کے بعد سولہویں صدی میں پرنٹنگ پریس کا زمانہ آ گیا۔ یہاں تک کہ قرآن کے مطبوعہ نسخے رفتہ رفتہ ساری دنیا میں پھیل گیے۔ پرنٹنگ پریس کے بعد قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری زیادہ بہتر طور پر پرنٹنگ پریس نے لے لی، جواس سے پہلے حافظین قرآن اور کاتبین قرآن نے لے رکھی تھی۔
قرآن کی صورت میں خدا کے ہدایت نامہ کا ایک محفوظ ورژن (version) وجود میں آنے کے بعد عملاً مذہبی دنیا میں یہ صورت حال ہوگئی کہ ایک طرف محفوظ قرآن تھا، اور دوسری طرف غیر محفوظ بائبل (اور دوسری مذہبی کتابیں)۔ قرآن میں کوئی ایک بھی غلطی موجود نہ تھی۔ جب کہ بائبل میں
‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues