Al-Risala · October 2016 · page 36

دعوت، ڈیبیٹ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۶

ہزاروں کی تعداد میں مختلف قسم کی غلطیاں موجود تھیں۔ اس تقابل (comparison) کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طرف قرآن تھا۔ جس کا کیس حفاظت کی بنا پر ایک طاقت ور (strong) کیس تھا۔ اور دوسری طرف بائبل تھی، جس کا کیس عدم حفاظت کی بنا پر ایک کمزور (weak) کیس تھا۔ قرآن میں کسی قسم کی غلطی نکالنا انسان کے لیے ناممکن ہو گیا۔ دوسری طرف بائبل کا یہ حال تھا کہ کوئی بھی شخص جو بائبل کو پڑھے، تو وہ اس کے متن (text) کے اندر بآسانی طرح طرح کی غلطیوں کی نشاندہی کر سکتا تھا۔ دونوں کتابوں میں فرق کی یہی صورت حال ہے، جس نے بعد کے زمانہ میں مذہبی دنیا میں ایک نیا ظاہرہ پیدا کیا، جس کو مناظرہ (debate) کہا جاتا ہے۔ اس واقعہ نے مسلم دنیا میں کچھ لوگوں کو یہ موقع دیا کہ وہ بائبل کا مطالعہ کر کے بائبل کی غلطیاں نکالیں اور اس کا تقابل قرآن سے کر کے اسٹیج پر لفظی پہلوانی کا کرتب دکھائیں، اور عوام میں سستی شہرت (cheap popularity) حاصل کریں۔

مناظرہ بازی کلچر (debate culture) ابتداء 8 ویں صدی میں شروع ہوا۔ انیسویں صدی کے حالات میں اس کو بہت زیادہ فروغ حاصل ہوا۔ اس زمانے میں انڈیا میں محمد رحمت اللہ کیرانوی (1818-1891) پیدا ہوئے۔ انھوں نے عیسائیوں سے مناظرہ کے موضوع پر اظہار الحق نامی کتاب لکھی۔ یہ کتاب اس موضوع پر بہت مشہور ہوئی۔ اس کے بعد مذہبی آزادی اور میڈیا کا زمانہ آیا تو مناظرہ بازی کلچر اپنی آخری حد پر پہنچ گیا۔ اب ایسے مناظر (debater) پیدا ہوئے جو جدید کمیونی کیشن کی مدد سے ساری دنیا میں دیکھے اور سنے جانے لگے۔

خاتم النبیین کے بعد ایک نیا عمل (process) شروع ہوا، جس کے نتیجہ میں وہ زمانہ آیا جب کہ مذہبی دنیا میں ایک طرف محفوظ قرآن تھا اور دوسری طرف غیر محفوظ بائبل۔ یہ فرق (disparity) دعوت الی اللہ کے کام کے لیے ایک عظیم تحفہ تھا۔ اب اہل ایمان کے لیے یہ موقع تھا کہ وہ جدال احسن کے طریقہ کو اختیار کرتے ہوئے، قرآن کو ساری دنیا میں پھیلا دیں۔ یہ گویا قرآن کے لیے بلا مقابلہ کامیابی (unopposed victory) کا معاملہ تھا۔ دعوت کی شرط نصح (خیر خواہی) اور امن (peace) کو اختیار کرتے ہوئے، یہ ممکن ہو گیا کہ اللہ کا کلام دنیا کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page