Al-Risala · October 2016 · page 37

دعوت، ڈیبیٹ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۷

ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں پہنچ جائے۔ مگر عین اس وقت شیطان نے ایک منفی تدبیر کر کے سارے ماحول کو خراب کر دیا۔ اب غیر سنجیدہ قسم کے مناظر اٹھے، انھوں نے یہ کیا کہ دوسری مذہبی کتابوں کی کمیاں اور خامیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالیں۔ ان لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ مسلمانوں کی بھیڑ اکٹھا کریں، اور للکارنے والے انداز میں دوسرے مذہب کی کمیاں اور خامیاں بتائیں اور اپنے مذہب کی برتری کو establish کریں۔ اس طریقے میں مناظر کو ذاتی شہرت ملتی تھی، لیکن مثبت دعوت کے امکانات پوری طرح ختم ہو جاتے تھے۔

قرآن کے مطابق، دعوت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کو ایسے اسلوب میں بیان کیا جائے جو مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو (النساء: 63)۔ مگر مناظر پہلوانوں نے اس کے برعکس یہ کیا کہ اپنی برتری (superiority) کو ثابت کریں۔ وہ قرآن کے علاوہ دوسری کتابوں میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی خامیاں نکالیں اور ان کو بڑھا چڑھا کر پیش کریں۔ اور ناصحانہ انداز کے بجائے للکارنے والے انداز میں بولیں۔ اس کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا ہوگئی۔ جب کہ اصل کام یہ تھا کہ معتدل ماحول بنایا جائے تاکہ لوگ غیر متعصبانہ (unbiased) طور پر قرآن کا مطالعہ کر سکیں۔

مناظر (debater) کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسری مذہبی کتابوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کو سن کو مسلمان خوش ہوتے ہیں اور تالیاں بجاتے ہیں۔ اس قسم کا انداز سخت گناہ کی بات ہے۔ استہزاء ایک ایسی چیز ہے جو بہت آسان ہے۔ آپ کسی بھی چیز کا استہزاء کر سکتے ہیں، حتی کہ خود قرآن کا بھی۔ یہ بات قرآن میں واضح طور پر بتائی گئی ہے۔ قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَإِذَا عَلِمَ مِنْ آيَاتِنَا شَيْئًا اتَّخَذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ (45:9)۔ یعنی اور جب وہ ہماری آیتوں میں سے کسی چیز کی خبر پا تا ہے تو وہ اس کو مذاق بنا لیتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے:

When he learns something of Our revelations, he derides them: for such there will be humiliating torment.

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page