Al-Risala · October 2016 · page 38

دعوت، ڈیبیٹ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۸

یہاں یہ سوال ہے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے، جو غلطیوں سے پوری طرح پاک ہے۔ پھر انسان اس کے اندر استہزاء کے قابل آیتیں کیسے پاتا ہے۔ اس کا راز یہ ہے کہ استہزاء کہیں باہر نہیں ہوتا، بلکہ وہ آدمی کے مائنڈ میں موجود ہوتا ہے۔ استہزاء ایک غیر سنجیدہ (non-serious) آدمی کی صفت ہے۔ جو آدمی غیر سنجیدہ ہو، اس کا دماغ مواخذہ (accountability) کے احساس سے خالی ہوتا ہے۔ وہ اپنے غیر سنجیدہ مزاج کی بنا پر کسی بھی کتاب میں استہزاء کے آئٹم پالیتا ہے۔ حتی کہ خود قرآن میں بھی۔ ایسے لوگ گویا استہزاء کے تاجر ہیں۔ وہ ہر چیز میں استہزاء کا پہلو نکال لیتے ہیں۔ اور اسٹیج پر لوگوں کی بھیڑ اکٹھا کر کے ایسی تقریریں کرتے ہیں، جن کو سن کر لوگ تالیاں بجائیں۔ اس معاملے کی متوازی مثال سے یہ حقیقت مزید واضح ہوتی ہے۔ مثلا صحافت (journalism) کو لیجیے۔ صحافت اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک تعمیری شعبہ ہے۔ وہ اپنے آپ میں ایک مثبت ذریعہ (positive medium) ہے۔ مگر کچھ لوگ جو سنجیدگی کا مزاج نہ رکھتے ہوں، وہ صحافت کو ایک منفی شعبہ بنا دیتے ہیں۔ یہ گیٹیو شعبہ وہی ہے، جس کو زرد صحافت (yellow journalism) کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے صحافی سلیکٹو نیوز کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ نیوز ورلڈ سے ایسے آئٹم منتخب کرتے ہیں، جن کو سنسنی خیز (sensational) معنی پہنائے جاسکیں ۔ اور پھر اس کو اپنے بزنس کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

یہی کام مناظر کرتا ہے۔ وہ زیر تنقید مذہبی کتاب سے منتخب (selective) آئٹم لیتا ہے، وہ گڈ (good) آئٹم کو چھوڑ کر ایسے آئٹم لیتا ہے جس کو منفی معنی دیا جاسکے۔ مثلا بائبل میں بہت سی مثبت تعلیمات ہیں، مگر مناظر اس طرح کی آیتوں کو نظر انداز کر کے ایسے آئٹم ڈھونڈ کر نکالے گا، جس کو استہزاء کا موضوع بنایا جاسکے، اور پھر اس کو استہزاء کے انداز میں بیان کرے گا، جس کو سن کر دوسرے مذہب کے لوگ تو مشتعل ہوں، مگر مسلمان اس کو سن کر تالیاں بجائیں۔ اس کو قرآن میں استہزائی کردار کہا گیا ہے۔

قرآن کا طریقہ تالیف قلب کا طریقہ ہے (التوبہ : 60)۔ یعنی دل کو نرم کرنے کا طریقہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page