Al-Risala · October 2016 · page 44

توسط اور اعتدال

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۴۴

توسط اور اعتدال

ایک حدیث میں آیا ہے: خير الأمور أوساطہا(شعب (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 6176)۔ یعنی معاملات میں بہترین روش درمیانی روش ہے۔ دین میں اعتدال کی بہت اہمیت ہے، مگر اعتدال کی اہمیت با اعتبار ابدی اصول نہیں ہے بلکہ اس کی اہمیت عملی حکمت (practical wisdom) کی بنا پر ہے۔ دوسرے الفاظ میں اعتدال کا مسئلہ عقیدہ کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ عملی ضرورت کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلہ میں دو باتیں بے حداہم ہیں۔

ایک یہ کہ اعتدال کا تعلق عقائد سے نہیں ہے بلکہ معاملات سے ہے۔ اعتدال اصولی معاملات میں نہیں ہوتا بلکہ اعتدال عملی معاملات میں ہوتا ہے۔ جہاں تک اصول یا عقیدہ کا معاملہ ہے اس میں ہمیشہ معیار (ideal) مطلوب ہوتا ہے۔ اور معیار کے معاملہ میں سچائی صرف ایک ہوتی ہے۔ اس میں کوئی متوسط راستہ یا غیر متوسط راستہ نہیں ہوتا۔

دوسری بات یہ ہے کہ اعتدال کی اہمیت عملی ضرورت کی بنا پر ہے۔ اس دنیا میں ہر انسان کو فکر کی آزادی حاصل ہے۔ اس بنا پر انسانوں کے درمیان عملی اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ ان اختلافات کو ختم کرنا اور سارے انسانوں کو ایک طریقہ کا پابند بنانا ممکن نہیں ہوتا۔ اس بنا پر یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اس طرح کے معاملہ میں اعتدال و توازن (balance) کا طریقہ اختیار کرو کہ لوگوں کے درمیان ٹکراؤ نہ ہو اور زندگی کا نظام پر امن انداز میں چلتا رہے۔

عقیدہ کا معاملہ ہمیشہ ایک ذاتی معاملہ ہوتا ہے۔ عقیدہ کے معاملے میں آدمی اپنے ذاتی فیصلہ کے مطابق ایک اصول کو اختیار کر سکتا ہے۔ لیکن عملی معاملہ ایک اجتماعی معاملہ ہوتا ہے۔ عملی معاملہ ہمیشہ کئی افراد سے متعلق ہو جاتا ہے۔ اس لیے زندگی گزارنے کے لیے کامیاب فارمولا یہ ہے کہ آدمی اپنے عقیدہ کے معاملہ آئیڈیلسٹ (idealist) بنے، اور اجتماعی زندگی میں لوگوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے پر یگمیٹک (pragmatic) بن جائے۔ اس طرح زندگی کا دونوں پہلو پر امن طور پر چلتا رہے گا۔ انفرادی زندگی معیار پسندی کے اصول پر، اور اجتماعی زندگی لوگوں کے رعایت کے اصول پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page