Al-Risala · November 2016 · page 11

نگاه عبرت

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۱

روحانی معنوں میں تیار شخصیت اُس دورِ حیات میں کام آئے گی جہاں موت کے بعد آدمی کورہنا ہے۔ مادی معنوں میں تیار شخصیت یہ ہے کہ آدمی پروفیشنل ایجوکیشن حاصل کرے۔ آدمی کے اندر تجارتی صلاحیت ہو۔ آدمی کے اندر وہ صفات ہوں جن کے ذریعے کوئی شخص لوگوں کے درمیان مقبول ہوتا ہے۔ آدمی قریبی مفاد (immediate gain) کو آخری حد تک اہمیت دیتا ہو، وغیرہ۔ موت کے بعد کے دورِ حیات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے جو تیار شخصیت درکار ہے وہ ایسی شخصیت ہے جس نے موجودہ دنیا کے مواقع کوروحانی ارتقاء (spiritual development) اور فکری ارتقاء (intellectual development) کے لیے استعمال کیا۔ ایسی ہی شخصیت موت کے بعد کے دورِ حیات میں با قیمت ٹھہرے گی۔

یہ شخصیت وہ ہے جس نے اپنی عقل کو استعمال کر کے سچائی کو دریافت کیا۔ جو شبہات کے جنگل میں یقین پر کھڑا ہوا۔ جس نے خدا کو اپنی زندگی کا واحد کنسرن بنایا۔ جس نے خود پسندی کے جذبات کو کچل کر خدا پرستی کے طریقے کو اختیار کیا۔ جو منفی حالات میں مثبت سوچ پر قائم رہا۔ جس نے نفسانی انسان بننے کے بجائے ربانی انسان ہونے کا ثبوت دیا۔ جس نے مفاد پرستی کے بجائے اصول پسندی کا طریقہ اختیار کیا۔ جس نے اپنے آپ کو نفرت سے بچایا اور اپنے اندر انسانی خیر خواہی کے جذبات کی پرورش کی۔ جس نے آزادی کے باوجود اطاعت (submission) کا طریقہ اختیار کیا۔

نگاه عبرت

رومن ایمپائر کے عروج کے زمانے میں اس کے اندر بیشتر یورپ، شرقِ اوسط اور افریقہ کے شمالی ساحلی ممالک شامل تھے۔ رومیوں نے جو سڑکیں، عمارتیں اور پل بنائے، وہ اتنے شاندار تھے کہ ان کے بنائے ہوئے بعض پل اسپین میں دو ہزار سال بعد بھی آج تک باقی ہیں۔ رومن لا، آج بھی یورپ، امریکا کے قانون کی بنیاد ہے، وغیرہ۔ مگر رومن ایمپائر اپنی ساری عظمتوں کے باوجود ختم ہوگئی۔ اب اس کا نشان یا تو پرانے کھنڈروں میں ہے یا ان کتابوں میں جو لائبریریوں کی زینت بننے کے لیے رکھی جاتی ہیں۔ اس طرح کے واقعات سے انسان اگر نصیحت لے تو وہ کبھی گھمنڈ میں مبتلا نہ ہو۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ آنکھ والا وہ ہے جو اپنے عروج میں زوال کا منظر دیکھے، جو اپنی بلند عمارتوں کو پیشگی طور پر کھنڈر ہوتا دیکھ لے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues

Printed page