سیاسی ایمپائر سے غیر سیاسی ایمپائر تک
الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۱۰
اس سلسلے میں قرآن کی سورہ نمبر 17 میں یہ الفاظ آئے ہیں: سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا (الاسراء: 1)۔ اس آیت میں لنریہ من آياتنا میں من تبعیضیہ ہے۔ اس کا ترجمہ اردو مترجمین نے ”کچھ“ کے لفظ سے کیا ہے۔ اور شاہ ولی اللہ دہلوی نے درست طور پر ان الفاظ کا فارسی ترجمہ اس طرح کیا ہے: تا بنمایم اش بعض نشانہائے خود (تاکہ ہم دکھائیں اس کو اپنی نشانیوں میں سے بعض)۔ قرآن کی تفسیر میں جس چیز کو شان نزول کی روایات کہا جاتا ہے، ان میں قیاساً تاریخ بھی شامل ہے۔ یعنی نزولِ قرآن کے وقت جو تاریخ تھی اس کے حوالے سے قرآن کی بعض آیات کو سمجھنا۔ اس اصول کے مطابق غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں من آیا تنا سے مراد غالباً مستقبل کا وہ واقعہ ہے جو کمیونی کیشن بذریعہ ٹیکنالوجی کی صورت میں بعد کو ظہور میں آنے والا تھا۔ ایک مثال اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکا، اسنا (ISNA) کی دعوت پر میرا ایک سفر امریکا کے لیے ہوا۔ 26 اگست 2015 کو دہلی سے روانگی ہوئی۔ تو دہلی سے ایر انڈیا کے ذریعے روانگی ہوئی۔ 9 ستمبر 2015 کو دہلی واپس پہنچا۔ یہ سفر ایک قافلے کی صورت میں تھا۔ اس میں دس آدمی شامل تھے۔ اس سفر کے دوران نیویارک، واشنگٹن، شکاگو، اور پنسلوانیا میں مختلف پروگرام ہوئے۔ اس سفر کے دوران ایک خاص تجربہ وہ تھا جو 4 ستمبر 2015 کو پیش آیا۔ شکاگو ائیر پورٹ کے پاس ایک ادارہ ٹرکش امریکن سوسائٹی (Turkish American Society) کے نام سے قائم ہے۔ اس سینٹر کے ذمے دار مجھ کو وہاں لے گئے۔ تقریباً ایک دن وہاں ٹھہرنے کا موقع ملا۔ یہ ایک بڑا سینٹر ہے جو امریکا کے ترقیاتی معیار پر قائم کیا گیا ہے۔ یہ فتح اللہ گولن کی تعلیمی تحریک کے مرکز کے طور پر بنایا گیا ہے۔
فتح اللہ گولن کی تحریک ایک غیر سیاسی تحریک ہے۔ اس کے ممبروں کی تعداد تقریباً دو ملین ہے۔ یہ لوگ جدید اسٹینڈرڈ کے مطابق ساری دنیا میں انگریزی اسکول قائم کرتے ہیں۔ ان کے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues